انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 478

انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض سنوا د یتا تو اپنی موجودہ حالت کے مطابق تو وہ یہی کرتے کہ اس سے نفرت سے منہ پھیر لیتے اور ماننے سے انکار کر دیتے ۔ اے مومنو! جس وقت خدا اور اُس کا رسول تم کو روحانی زندگی بخشنے کیلئے بلائیں تو تم ان کی بات کو فوراً قبول کر لیا کرو اور یاد رکھو کہ اللہ انسان اور اُس کے دل کے درمیان حائل ہے ۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ آخر تم سب کو اس کی طرف اکٹھا کر کے لے جایا جانا ہے اور چاہئے کہ تم اس فتنہ سے بچو جو صرف تم میں سے غلطی کرنے والوں تک محدود نہ رہے گا اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی سزا بہت سخت ہوتی ہے۔ ان آیات میں گو اللہ اور اس کے رسول کا ذکر ہے لیکن جیسا کہ قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے ، رسول کے متعلق جو احکام نظام سلسلہ کے متعلق ہیں وہ رسول کے خلفاء کے متعلق بھی ہیں اور یہاں چونکہ نظام کے بارہ میں احکام ہیں یہ جس طرح رسول کے بارہ میں ہیں اسی طرح ان کے خلفاء کے متعلق بھی ہیں ۔ نیز رسول کریم ﷺ بھی فرماتے ہیں کہ من صلى الله عروسه أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَاعَنِی ۱۲ جو میرے امیر کی اطاعت کرتا ہے ، وہ میری اطاعت کرتا ہے۔ پس رسول کے نائبوں کی اطاعت رسول کی اطاعت میں شامل ہے۔ اس تمہید کے بعد میں بتانا چاہتا ہوں کہ ان آیات میں اللہ تعالٰی مومنوں کو تاکید کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول کی کامل اطاعت کریں اور اس میں ذرہ بھر فرق نہ آنے دیں اور اطاعت میں وہ اس قدر بڑھ جائیں کہ کان میں آواز پڑنے کے بعد پھر کوئی نافرمانی کی مثال نہ ملے ۔ پھر فرماتا ہے کہ مسلمانوں میں یہ مثال نہیں ملنی چاہئے کہ منہ سے تو کہیں ہم فرمانبردار ہیں لیکن عمل سے فرمانبردار نہ ہوں ۔ پھر فرماتا ہے کہ مومنوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ اس جدید نظام کے قیام کی اصل غرض ہی یہ ہے کہ پہلی قو میں گونگی اور بہری ہوگئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو سنکر لبیک کہتے ہوئے نہیں دوڑتیں ، اس لئے اللہ تعالیٰ کی نصرت ان سے جاتی رہی ہے اور اُس نے اپنے لئے تم کو منتخب کیا ہے تا کہ تم اُس کی بات سنو اور سنتے ہی اس کی طرف دوڑ پڑو۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے رسول کے احکام ہی وہ احکام ہیں جو انسان کو کامل اور دائمی زندگی عطا کرتے ہیں، جو ان سے دُور ہوا وہ گویا مردہ ہے جو روحانی زندگی سے محروم ہے۔ پس جبکہ ساری دنیا روحانی طور پر مردہ ہے تم کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جن کے دروازے ان دنوں خاص طور پر گھلے ہوئے ہیں ، بڑھ بڑھ کر حاصل کرو اور اس کی صورت یہی ہے کہ کامل مطیع ہو جاؤ اور ہر وقت بیدار اور ہوشیار رہو، ادھر خدا تعالیٰ کی طرف