انوارالعلوم (جلد 14) — Page 477
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض اور تم فوراً سمجھ لو کہ وہ میری نافرمانی کرنے والا ہے اور میری اطاعت سے منہ موڑنے والا انسان ہے۔تم فوراً میرے پاس آؤ اور ایسے شخص کی شکایت کرو۔اور اُس گندے وجود کو کاٹنے کی جلد تر کوشش کرو ایسا نہ ہو کہ وہ باقی قوم کو بھی گندہ کر دے نا اس عبارت کو پڑھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ میں نے اُسے اپنی پالیسی اچھی طرح کھول کر نہیں بتا دی۔پھر اگر آپ لوگ میری اس واضح پالیسی پر عمل نہ کریں تو میں کیونکر یقین کروں کہ آپ لوگ پوری طرح میرے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں۔امام کا فائدہ یہی ہے کہ اس کے حکم کے مطابق ساری جماعت ایک آواز اُٹھائے پس جب تک امام ایک جماعت میں موجود ہے اور ایک خاص پالیسی کو اس کے عمل کیلئے پیش کر رہا ہے ، اُس وقت اس جماعت کیلئے کوئی دوسرا قدم اُٹھانا درست اور جائز نہیں۔ہاں جس امر میں وہ خاموش ہو اور وہ امر جماعت سے نہیں بلکہ افراد سے تعلق رکھتا ہو، افراد اپنے لئے شریعت کے مطابق طریق عمل تجویز کرنے میں آزاد ہوتے ہیں مگر جس امر کے متعلق امام ایک حکم دے اُس میں اُس کے حکم کے خلاف وہ امور بھی جائز نہیں ہوتے جن کو دوسرے حالات میں شریعت نے جائز قرار دیا ہو۔قرآن کریم نے اطاعت امام کو ایسا اہم قرار دیا ہے کہ اس اطاعت امام کی اہمیت کے بعد کسی او نصیحت کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔فرماتا ہے۔يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ وَلا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لا يَسْمَعُونَ إِنَّ شَرَّ الدَّوَاتِ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكُمُ الَّذِينَ ٥ لا يَعْقِلُونَ ، وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًالَّا سَمَعَهُمْ وَلَوْاَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْاوَّهُمْ مُّعْرِضُونَ۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُو اللَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ، وَاتَّقُوْا فِتْنَةٌ لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ یعنی اے مومنو! اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور رسول کا حکم سن لینے کے بعد اس کے حکم سے ادھر اُدھر نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سے سب سے بدتر وہ مخلوق ہے جو گونگی بہری ہو اور عقل سے کام نہ لے اور اگر اللہ تعالیٰ اس مخلوق میں کوئی نیکی دیکھتا تو ضرور انہیں اپنی اور اپنے رسول کی بات سنوا دیتا اور اگر انہیں وہ اس وقت وہ بات 6