انوارالعلوم (جلد 14) — Page 466
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض حکومت کا کام ہے پس جن جرائم کی سزا حکومت ہند نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے، اُس کی سزا وہی دے سکتی ہے ہم میں سے کوئی نہیں دے سکتا مگر جن امور کو با ہمی سمجھوتے سے طے کرنے کا حکومت نے راستہ کھلا چھوڑا ہے، ان کے متعلق یا تو ثالث مقدمہ سن کر فیصلہ کر سکتے ہیں یا پھر ہمارے سلسلہ میں سلسلہ کے مقرر کردہ افراد فیصلہ کر سکتے ہیں ، افراد کو ان معاملات میں بھی یکطرفہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔یہ امور جن میں باہمی سمجھوتوں کا دروازہ حکومت نے گھلا رکھا ہے چھوٹی قسم کے ہوتے ہیں اور ان کی سزائیں ایسی نہیں ہوتیں جو کوئی دیر پا اثر چھوڑیں اور ان میں سزا پانے والے کی رضامندی ضروری ہوتی ہے جیسے سکول ماسٹروں کو سزا دینے کا اختیار ہے۔ہمارے سلسلہ میں چونکہ ہر احمدی سلسلہ کے قانون کی پابندی کا اقرار کرتا ہے اس لئے ایسے امور کو اُس کی مستقل رضا مندی کے ماتحت ہمارا محکمہ قضاء طے کرتا ہے لیکن اگر کوئی جماعت سے خارج ہو جائے یا عملاً ہمارے قاضیوں سے فیصلہ کرانے سے انکار کر دے تو پھر سلسلہ کو بھی کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔غرض یہ اختیار ایک طرف قانون کی اجازت اور ایک طرف مدعا علیہ کی اجازت سے مقید ہے اور اگر ان دو شرطوں میں سے کوئی ایک شرط پوری نہ ہو تو یہ اختیار باطل ہو جاتا ہے۔پس جب کہ سلسلہ کے اختیارات بھی کسی کو اس کے جرم کی سزا دینے میں قانون کی اجازت اور ملزم کی رضامندی کے تابع ہیں ، آزاد نہیں تو افراد کو کس طرح اجازت ہو سکتی ہے کہ آپ ہی آپ فیصلہ کر کے کسی شخص کو سزا دے دیں اور سزا بھی ایسی کہ عدالتی فیصلہ کے بعد بھی اس کے اجراء کا حق افراد کو نہیں پہنچتا۔دوستوں کو یہ امربھی نظر انداز نہیں کر نا چاہئے کہ ایسے افعال خود ت کیلئے ابتلاء جماعت کیلئے ابتلاء بن جاتے ہیں اور تمام جماعت کیلئے ایک شدید ذہنی تکلیف کا موجب ہو جاتے ہیں مثلاً یہ واقعہ ہے۔ایک طرف تو جماعت دیکھتی ہے کہ ایک نا جائز اور خلاف شریعت فعل ہوا ہے جس کی مذمت ہمارا فرض ہے۔دوسری طرف وہ یہ دیکھتی ہے کہ ایک نوجوان نے اشتعال میں محض محبت سلسلہ کے جذ بہ سے متأثر ہوکر، نہ کہ کسی ذاتی جوش کی وجہ سے ایک فعل کیا ہے، اور اس شخص پر بھی انہیں رحم آتا ہے اور اس کے دکھ سے وہ دکھ پاتے ہیں ، اب یہ مخالف جذبات جو ایک وقت میں پیدا ہوتے ہیں ایک سخت عذاب ہیں جس میں ساری جماعت مبتلاء ہو جاتی ہے۔وہ نو جوان جس سے یہ فعل ہوا ہے، اپنی جگہ تکلیف میں ہے اور جماعت کے افراد ان متضاد جذبات کی وجہ سے اپنی جگہ تکلیف میں ہیں اور