انوارالعلوم (جلد 14) — Page 463
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض پہلا حملہ میاں فخر الدین صاحب پر تھا اور اس کے بعد دوسرا تمہ وہ لڑائی تھی جو چند گز ہٹ کر ہوئی۔حقیقت حال کا پورا پتہ تو عدالتی تحقیق سے معلوم ہوگا۔مگر مختلف بیانات کو سنکر یہ نتیجہ تھا جو میں نے اس وقت ملزم کے وکیل کو ہدایت نکالا جس کی بناء پر میں نے مرزا عبدالحق صاحب سے کہا کہ آپ ملزم کے وکیل ہیں آپ اسے نصیحت کریں کہ اگر اس سے کوئی گناہ ہوا ہے تو اس کا اصل فائدہ اس میں ہے کہ وہ اپنے جرم کا اقبال کر کے خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے پر سے دُور کرنے کی کوشش کرے اور اپنے جسم کی حفاظت کی نسبت اپنے ایمان کی حفاظت کو مقدم رکھے۔مرزا صاحب میرے پاس سے اُٹھ کر گئے ہی تھے کہ چند منٹ کے بعد ناظر صاحب امور عامہ آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ میں نے میاں بشیر احمد صاحب سے گفتگو کی ہے اور ان کا یہ خیال ہے کہ اس وقت تک جس نتیجہ پر ہمارے دوست پہنچے ہیں وہ غلط ہے کیونکہ بعد میں بعض گواہیاں ایسی ملی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا حملہ میاں عزیز احمد صاحب نے کیا ہے اور ناظر صاحب نے بیان کیا کہ میری اپنی تحقیق بھی اسی کی تصدیق کرتی ہے۔اس پر میں نے انہیں بتایا کہ ابھی ابھی میں بھی اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں اور مرزا صاحب کو بحیثیت ملزم کے وکیل کے یہ مشورہ دے چکا ہوں کہ قانونی مشورہ کے علاوہ انہیں اپنے مؤکل کو مذہبی مشورہ بھی دینا چاہئے اور وہ اس کام کے لئے جا رہے ہیں اور میں نے نصیحت کی کہ وہ بھی محکمانہ طور پر میاں عزیز احمد کے رشتہ داروں کی معرفت ان کو یہی نصیحت کریں کیونکہ ایک مذہبی ادارہ کے ذمہ وار کا رکن کی حیثیت سے یہی ان کا فرض ہے۔چنانچہ انہوں نے مجھے کہا کہ عزیز احمد صاحب کے بھائی آئے ہوئے ہیں ، وہ انہیں سمجھا کر ان کے پاس بھجوائیں گے کہ انہیں سچائی کو اختیار کرنا چاہئے اور کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جو خلاف واقعہ ہو۔عزیز احمد صاحب کا عدالت میں بیان اس کے بعد مجھے اطلاع ملی ہے کہ عزیز احمد صاحب نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ میں نے میاں فخر الدین صاحب کے پوسٹر کی وجہ سے اشتعال میں آ کر اُن پر حملہ کیا تھا لیکن میری غرض انہیں قتل کرنا نہ تھی بلکہ صرف تخویف تھی تا کہ وہ ڈر کر آئندہ اس قسم کی غلاظت اُچھالنے سے باز آ جائیں۔چونکہ یہ معاملہ اب عدالت میں ہے میں اس بارہ میں زیادہ نہیں کہہ سکتا مگر غالباً قانون مجھے اس امر کی اجازت دیتا ہے کہ جو بیان ملزم نے دیا ہے،