انوارالعلوم (جلد 14) — Page 462
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض احباب کو اس واقعہ کا علم ہو گیا ہو گا جو تھوڑے ہی دن ہوئے ، قادیان میں ایک حادثہ ایک حادثہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔یعنی وہ حملہ جو ایک احمدی نوجوان میاں عزیز احمد نے میاں فخر الدین صاحب ملتانی پر کیا۔جب اس حملہ کی ہمیں پہلے پہلے اطلاع ملی تو وہ ایسی شکل میں تھی جس سے اندازہ یہ کیا گیا کہ یہ ایک باہمی لڑائی تھی جس میں غالبا حملہ میاں فخر الدین صاحب کے ساتھیوں نے کیا تھا اور اس کی بناء بعض معتبر گواہوں کی گواہی تھی جنہوں نے بیان کیا تھا کہ انہوں نے پہلے دو شخصوں کو میاں عزیز احمد پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جس کے بعد انہوں نے اٹھ کر ان میں سے ایک پر حملہ کیا۔لیکن پیر (سوموار ) کو یعنی حملہ کے تیسرے دن جبکہ مختلف بیانات اکٹھے ہو گئے اور مرزا عبدالحق صاحب وکیل ملزم نے مجھے وہ بیان آ کر سنائے تو مجھے یہ مشبہ پیدا ہوا کہ غالبا معاملہ کو صیح طور پر نہیں سمجھا گیا اور مختلف شہادتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ غالبا لڑائی دو جگہ پر ہوئی ہے۔یعنی پہلے بازار کے اُس حصہ میں جہاں نسبتاً ہندو، سکھ اور غیر احمدی دکاندار زیادہ ہیں اور پھر چند گز ہٹ کر اس جگہ پر جہاں احمدی دکاندار زیادہ ہیں اور غالبا وہ گواہ جن کی گواہی سے پہلے نتیجہ نکالا گیا تھا، اس وقوعہ کے گواہ تھے جو ان کی دکانوں کے سامنے پہلے حملہ کے بعد ہوا تھا۔پس چونکہ ایک طرف سکھ اور ہندو گواہوں میں سے بعض ایسے تھے جن کی گواہی کو گلی طور پر رڈ نہیں کیا جا سکتا تھا اور دوسری طرف احمدی گواہوں نے اس حملہ کو نہیں دیکھا تھا جو میاں فخر الدین صاحب پر ہوا تھا حالانکہ اس حملہ کا ہونا قطعی تھا اس لئے لازماً یہ نتیجہ نکالنا پڑا کہ