انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 454

انوار العلوم جلد ۱۴ موجودہ فتنہ میں کفر کی تمام طاقتوں کا ہمارے خلاف اجتماع۔۔فرمان کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون نَعُوذُ بِاللهِ غلط نکلا لیکن حقیقت میں خدا تعالیٰ نے جو کچھ کہا تھا سچ تھا اور شیطان نے جو کچھ کہا تھا، جھوٹ تھا۔شیطان کا جھوٹ عامی نگاہ نہیں دیکھ سکتی وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ خدا کے عبد بننے والے کم ہیں اور شیطان کے عبد بننے والے زیادہ ہیں اور قرآن کریم بھی فرماتا ہے۔وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مشْرِكُونَ کے یعنی اکثر لوگ جو ایمان دار بھی ہیں ان میں شرک پایا جاتا ہے۔اور مومنوں کے متعلق فرماتا ہے۔وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشُّكُورُ یعنی خدا تعالیٰ کے شکر گزار تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔غرض یہ تو قرآن کریم بھی فرماتا ہے کہ مومن کم ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا نَعُوذُ بِاللہ ہار گیا بلکہ جیتا اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر یہ نکتہ صرف بار یک نظر والوں کو نظر آتا ہے۔یہ زیر کی جو حضرت آدم کے وقت شیطان کو حاصل تھی کیا حضرت نوح کے وقت اس میں کوئی کمی آگئی؟ حضرت نوح علیہ السلام کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح انہوں نے انتہائی زور لگایا کہ لوگوں کے دلوں تک پہنچیں۔پنجابی میں انتہائی زور لگانے کو تر لے لینا کہتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ نوح نے واقعہ میں ترلے لئے کہ کسی طرح لوگوں پر حق ظاہر ہو جائے لیکن شیطان نے ان لوگوں کو ہدایت کے پاس تک پھٹکنے نہیں دیا۔اگر وہ اکیلے کسی سے ملتے تو شیطان اُس کے کان میں کہہ دیتا کہ دیکھنا اس کی باتوں میں نہ آنا، یہ تمہیں گمراہ کر دے گا ، اگر وہ کسی جماعت کو تبلیغ کرتے تو شیطان وہاں بھی پہنچ جاتا ، اگر وہ لیکچر دیتے تو شیطان وہاں بھی سرگوشیاں کر رہا ہوتا، اگر وہ آہستہ کسی مجلس میں باتیں کرتے تو وہاں بھی شیطان لوگوں کو بہکا رہا ہوتا کہ اس کی باتوں کو نہ سننا ، غرض اگر حضرت نوح نے بشارتوں سے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی تو شیطان نے کہہ دیا کہ یہ محض دھوکا ہے، اگر انذار سے انہیں راہِ ہدایت پر لانے کی کوشش کی گئی تو اس نے کہا یہ تو محض بنانے کی باتیں ہیں ، اس دنیا کی لذتوں کا مزہ چکھ لو، آئندہ کا کس کو علم ہے۔غرض جس طرح بھی حضرت نوح نے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی شیطان نے اسی رنگ میں اس کی تردید کر کے لوگوں کو بہکایا اور جب تک خدا تعالیٰ نے تمام لوگوں کو اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر دیا شیطانی ذریت قسم قسم کی تدبیروں سے حضرت نوح کا مقابلہ کرتی رہی اور ہر قسم کی اچھی تعلیم کے جواب میں انہوں نے کوئی نہ کوئی جواب گھڑ لیا۔اسی طرح جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے ، وہاں بھی شیطان نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا