انوارالعلوم (جلد 14) — Page 455
انوار العلوم جلد ۱۴ موجودہ فتنہ میں گھر کی تمام طاقتوں کا ہمارے خلاف اجتماع عراق میں لوگوں کو آپ نے تبلیغ شروع کی تو وہاں انہوں نے تنگ کرنا شروع کر دیا، اس کے بعد آپ نے کنعان کو اپنے لئے منتخب کیا لیکن وہاں شیطان پہلے سے موجود تھا اور وہ تمام طاقتیں جو عراق میں ان کے خلاف صرف ہو رہی تھیں وہاں بھی استعمال ہونے لگیں۔وہاں اگر ا کا بر کے پاس جاتے اور انہیں کہتے کہ دیکھو عوام کی حالت کیسی خراب ہے تو وہ کہتے کہ بہر حال تم سے اچھے ہیں اور اگر عوام کے پاس جاتے اور کہتے کہ دیکھوا کا برکس قدر صداقت سے دُور ہو گئے ہیں تو وہ کہتے کہ ان کے ظلم تمہارے رحم سے اچھے ہیں۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا۔پھر اس سے بہت زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضور کو پیش آیا اور اس کی تفاصیل ہمارے سامنے موجود ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عربوں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ خدا تعالیٰ نے تم میں سے ایک نبی مبعوث فرمایا ہے اور یہ تمہارے لئے خوشی کا مقام ہے تو انہوں نے کہا کہ عربوں کی عصبیت تو ہم میں موجود ہے لیکن یہودی آپ سے اچھے ہیں۔جب آپ یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ دیکھو تمہارے انبیاء کی پیشگوئیوں اور تمہاری کتاب کی بشارتوں کے پورا ہونے کا دن آگیا ہے تم اس کی قدر کرو تو انہوں نے جواب دیا جاؤ ہم تمہارے فریبوں میں آنے والے نہیں، مکے والے تم سے اچھے ہیں۔غرض سب نے بے اعتنائی کا سلوک کیا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کا غضب بھڑ کا اور شیطانی قو تیں پاش پاش ہو گئیں۔پس ہمیں اس میں کہیں بھی استثناء نظر نہیں آتا کہ بدی کی طاقتوں نے حق کے مقابلہ میں پورا زور صرف نہ کیا ہوا اور آج تک کوئی مثال ایسی نہیں ملتی کہ انہوں نے کبھی دھوکا کھایا ہو یا کبھی انہوں نے غلطی سے تقویٰ کی تائید کر دی ہو۔ہمارے نزدیک ہزاروں سال اور فلاسفروں کے نزدیک لاکھوں سال دنیا کو پیدا ہوئے گزر چکے ہیں لیکن ایسا آج تک کبھی بھی نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ کی آواز آئی ہو اور بدی کی طاقتوں نے فوراً پہچان نہ لی ہوا اور اس کی مخالفت شروع نہ کر دی ہو۔ہزاروں اور لاکھوں سال کی دنیا میں جس حد تک تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک غلطی بھی بدی کی طاقتوں نے ایسی نہیں کی کہ مثلاً یوشع نبی اُٹھے ہوں اور انہوں نے یہ سمجھ کر کہ شاید یہ یوشع نبی نہیں ہیں ان کا ساتھ دینا شروع کر دیا ہو اور بعد میں غلطی معلوم کر کے الگ ہو گئے ہوں۔غرض ہمیں ایک مثال بھی ایسی نظر نہیں آتی ، نہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں اور نہ کسی اور قوم کے نبیوں میں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دنیا میں