انوارالعلوم (جلد 14) — Page 431
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ صاحب کے متعلق تھیں ۔ میں نے ان سے کہا کہ ان امور کو وہ لکھ دیں چنانچہ انہوں نے حلفیہ شہادت لکھ دی جو یہ ہے ۔ مهاشہ محمد عمر صاحب کا حلفیہ بیان بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَا سَيِّدِى! السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ا۔ میں علیم وخبیر خدا کو گواہ رکھ کر یہ لکھتا ہوں کہ جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ ایک دن میں اور فخر دین نزد دکان لاہور ہاؤس کھڑے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ اس نے دوران گفتگو میں کہا کہ آہستہ آہستہ بولو اور پیچھے نہ دیکھنا۔ میں نے کہا کہ کیا ہے؟ اُس نے کہا کہ وہ جا رہا ہے، یہ بھی آج کل میرے خلاف بڑا حصہ لے رہا ہے۔ اتنے میں مولوی اللہ دیتا صاحب سائیکل پر سے گزر گئے ۔ جب گزر گئے تو کہا کہ یہ بھی خلیہ کی کا بال جا رہا ہے اس جگہ اُس نے پنجابی کا ایک نہایت ہی غلیظ لفظ بولا جس کو شرافت اجازت نہیں دیتی کہ لکھا جائے ۔ مجھے اس خدا کی قسم ہے کہ جو دلوں کے بھید کو جانتا ہے اور جس کی جھوٹی قسم انسان کو تباہ و بر باد کر دیتی ہے ۔ اے خدا ! اگر یہ الفاظ اس نے نہ کہے ہوں اور میں نے اپنے پاس سے لکھ دیئے ہوں تو اس کا وبال میرے اور میری اولاد پر ڈال ۔ ۲۔ نیز میں خدا کی قسم کھا کر یہ بھی لکھتا ہوں کہ اُس نے ایک دن اپنے مکان کے پاس کھڑے ہو کر یہ کہا تھا کہ تحریک جدید کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ پہلے تو لڑکوں کو تلاش کرنا پڑتا تھا ، آب جمع شھد مل جاتے ہیں۔ اس جگہ اس کا مفہوم نہایت ہی گندہ اور حضور پر کمینہ حملہ تھا۔ ۳۔ نیز میں نے اُس سے ایک دن یہ بھی کہا تھا کہ چھ مارچ کے جلسہ کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی اچھا سا شعر بتاؤ، انہوں نے ایک شعر بتایا، میں نے کہا کہ کوئی اور نے شعر بتاؤ، اُس نے کہا کہ اور تو کوئی نہیں ، میں نے کہا تو پھر خلیفہ المسیح الثانی‘ کا بتاؤ۔ اِس پر اُس نے کہا کہ ان کے شعر عاشقانہ ہوتے ہیں ، ہاں اگر ان کی ضرورت ہے تو ہزاروں مل جائیں ، گے، عاشقانہ کلام تو اِن کا مشہور ہے ۔ نیز اُس نے یہ بھی کہا تھا کہ میں پہلے نکلوں گا ، پھر