انوارالعلوم (جلد 14) — Page 430
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ مجھ سے آگے چل کر ٹھہر گئے۔میں یہ بات سنکر مولوی صاحب کے پاس پہنچا اور انہیں یہ واقعہ سنایا۔اس کے بعد صبح کو ماسٹر غلام حیدر صاحب سے بھی اس کا ذکر ہوا۔کمیشن کے سوال پر عرض ہے کہ غالبا سردار مصباح الدین اس لئے کہا کہ میں نے اُن کا چہرہ نہیں دیکھا ، میری طرف اُن کی پیٹھ تھی۔ہاں باقی خلیہ چونکہ بالکل انہیں کا تھا اس لئے غالب گمان سے تعبیر کیا گیا۔کمیشن کے سوال پر عرض ہے کہ میں نے وہاں کھڑے ہو کر انہیں یہ نہیں کہا کہ ایسی گندی باتیں کیوں کر رہے ہو کیونکہ ان کے متعلق پہلے ہی مقدمہ شروع تھا۔میں نے اس لئے ان سے گفتگو کر نا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ میری کسی بات کا جبکہ وہ آپس میں گفتگو کر رہے تھے کیا اثر ہو سکتا تھا، سوائے اس کے کہ وہیں لڑائی ہو جاتی۔اگر لڑائی کا خوف نہ ہوتا تو ضرور اُسی وقت انہیں مناسب تنبیہہ کر دی جاتی۔خاکسار عبد الاحد۔۔۱۹۳۷ء میاں مصباح الدین صاحب اس واقعہ کا انکار کرتے ہیں لیکن اس کا انکار نہیں کہ یہ بات نہیں ہوئی بلکہ اس کا انکار کرتے ہیں کہ وہ اس موقع پر میاں فخر الدین صاحب سے باتیں کر رہے تھے مگر اس انکار کا چنداں اثر نہیں پڑتا، کیونکہ مولوی عبدالاحد صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے شکل نہیں دیکھی صرف شباہت سے اُنہوں نے یہ قیاس کیا ہے۔پس اس انکار سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُس وقت میاں مصباح الدین صاحب بات نہیں کر رہے تھے بلکہ کسی اور شخص سے میاں فخر الدین صاحب بات کر رہے تھے۔میاں فخر الدین صاحب اس واقعہ کا انکار کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تصدیق اور ذریعہ سے کرا دی ہے جب میں سندھ سے واپس آیا ہوں اور کمیشن کی رپورٹ میں نے پڑھی ان دنوں مہاشہ محمد عمر صاحب ، مولوی ابوالعطاء صاحب کے ساتھ کہیں باہر تبلیغ کیلئے گئے ہوئے تھے۔انہوں نے راستہ سے مجھے خط لکھا کہ بعض اہم باتیں سلسلہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہیں۔میں بوجہ شرم پہلے بیان نہیں کر سکا مگر اب مجھے خیال آیا ہے کہ ان کا بیان کر دینا زیادہ مناسب ہے۔جب وہ واپس آئے تو مجھ سے ملے اور انہوں نے بعض باتیں مجھ سے بیان کیں۔جن میں سے بعض میاں فخر الدین