انوارالعلوم (جلد 14) — Page 7
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہرگز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے کے منشاء کو پورا کرنے کیلئے جس نے یہ حکم دیا تھا ، وہ خود ہی اسے منسوخ کر چکا تھا اور ایسے ہاتھوں میں سے ہو کر آیا جنہیں معلوم تھا کہ وہ دعوت نامہ منسوخ ہو چکا ہے۔اُس وقت اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ بات کھول دی کہ کسی انسان پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔اور کہ جن کی جانیں بچانے کیلئے ہم اپنی جانیں پچاس سال تک قربان کرتے رہے، جن کی عزتیں بچانے کے لئے ہم پچاس سال تک اپنی عزتیں قربان کرتے رہے، اُن پر بھی ہمارا اعتماد کر ناسخت غلطی ہے۔لوگ روشنی میں دیکھتے ہیں مگر مجھے خدا تعالیٰ نے ۱۷۔اکتوبر کی رات کو یہ حقیقت دکھا دی۔اللہ تعالیٰ نے اُس رات کو ہمارے لئے نور بنا دیا اور ہمارے لئے وہ رستہ کھول دیا جو ترقی اور کامیابی کا رستہ ہے۔یہ نوٹس گویا ایک افشائے راز تھا اُن کا رروائیوں کا جو اندرون پردہ ہو رہی تھیں ، وہ ایک قدم تھا جس نے ایک لمبی کارروائی کو ظاہر کر دیا۔میں نے اُس کا وہی جواب دیا جو ایک شریف مومن کا حق ہے۔میں نے اس پر اظہار نفرت کیا اور اظہار نفرت کرتے ہوئے مذہبی حکم کے ماتحت فرمانبرداری کا یقین دلایا۔نیز جماعت کو اس بات سے آگاہ کر دیا کہ وہ یہ نہ سمجھے ہمارے لئے یہ امن کا زمانہ ہے اور پر امن حکومت ہے اس لئے ہم فتنوں سے بچے رہیں گے۔حکومت کے افسر بھی شریروں کے بہکانے میں آ سکتے ہیں آخر وہ بھی انسان ہیں اور بعض اچھے اچھے شریف لوگوں کو شریر بہکا لیتے ہیں اور دھوکا دے لیتے ہیں۔ہمیں یہ جو اطمینان تھا کہ پُر امن حکومت ہے اور شریف لوگوں کی حکومت ہے، گو ہمارا یہ خیال صحیح تھا اور میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ صحیح ہے ، مگر پھر بھی ہمارا یہ اطمینان صحیح نہ تھا یہ ایک الارم تھا، وارنگ تھی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں ملی اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے خوش ہوں کہ میں نے اسے قبول کیا اور جماعت کو اسے قبول کرنے کی دعوت دی اور میں اس پر بھی خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے بیشتر حصہ کو اسے قبول کرنے کی توفیق دی۔میں نے کہا کہ یہ قربانیوں کا زمانہ ہے اور اس پر امن زمانہ میں بھی تمہارے لئے تکلیف کے سامان ہو رہے ہیں۔پس آؤ اور خدا کے لئے قربانیاں کرو۔جماعت نے کہا کہ ہم تیار ہیں اور بیشتر حصہ نے لبیک سے جواب دیا۔بے شک منافق بھی ہیں مگر ان کی غلطیاں جماعت کی طرف منسوب نہیں ہو سکتیں۔یہ فتنہ کے دن گزر گئے اور اب یہ فتنہ مختلف صورتیں بدلتا ہوا کچھ اور شکل اختیار کر چکا ہے لیکن دوستوں کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ فتنہ ابھی گیا نہیں اُس نے شکل بدل لی ہے مگر ابھی مٹا نہیں بلکہ مشکلات بڑھ گئی ہیں۔کیونکہ اس سے پہلے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ باوجود اس کے کہ یہ جماعت ترقی کر رہی ہے مگر بہر حال یہ مینارٹی MINORITY)۔