انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 429

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ ولی اللہ شاہ صاحب نے حلفاً بیان کیا کہ مجھے بھی کئی بار فخر الدین صاحب نے شکوہ کے رنگ میں کہا تھا کہ بلڈ پو جاری کر کے میری تجارت کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔اس کے متعلق حضور نے فرمایا کہ بکڈپو سے ہمارا کیا فائدہ ہے۔ہم نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام کتب کے حقوق سلسلہ کو دیدئیے ہوئے ہیں۔مگر میاں فخر الدین صاحب کے دل میں یہ بغض ہے کہ سلسلہ کا بلڈ پو جاری کر کے ان کی دکان کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ان کی موجودہ حالت تو ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے الہام سے میرے دل میں سلسلہ کا بکڈ پو قائم کرنے کی تحریک کی ورنہ اگر سلسلہ کا بلڈ پونہ ہوتا تو آج میاں فخر الدین صاحب کے اخراج کے ساتھ ہی سلسلہ بغیر لٹریچر کے رہ جاتا۔فخر الدین کی فحش گوئی اس تحقیق کے دوران میں مولوی عبدالاحد صاحب نے ایک رپورٹ کی کہ میاں فخر الدین صاحب کسی سے تحقیق وغیرہ کا ذکر کر رہے تھے۔میں اور مولوی علی محمد صاحب اجمیری ان کے پاس سے گزرے تو مولوی صاحب کسی قدر آگے تھے ، میں پیچھے تھا۔جب میں پاس سے گزرا تو میں نے میاں فخر الدین صاحب کے منہ سے سلسلہ کے خلاف ایک نہایت گندہ فقرہ سنا۔اس پر کمیشن نے ان کا بھی بیان لیا اور انہوں نے مندرجہ ذیل بیان دیا:۔میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان مولوی عبد الاحد صاحب کا حلفیہ بیان کر حلفیہ بیان کرتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھا نا لعمنیوں کا کام ہے جو کچھ میں بیان کروں گا وہ صحیح اور درست ہوگا۔جناب با بو فخر الدین صاحب ملتانی کے متعلق مولوی تاج الدین صاحب کی شکایت پر جو مجھ سے شہادت طلب کی گئی تھی ، اس مقدمہ کے متعلق صاحب موصوف ذکر کر رہے تھے۔جن صاحب سے ذکر کر رہے تھے وہ غالبا سردار مصباح الدین صاحب تھے۔ان سے انہوں نے کہا۔خیر دیکھی جائے گی۔کان سے پکڑ کر نکالتے ہیں یا شرمگاہ کا نام لیکر کہا۔وہاں سے پکڑ کر پنجابی زبان میں ہر دو صاحبان گفتگو فرما رہے تھے۔وقت عشاء اور مغرب کے درمیان کا تھا۔مقام اس گفتگو کا فخر الدین صاحب کی دُکان کے متصل جو گلی ہے اس کا وہ حصہ تھا جو صاحب موصوف کی دُکان سے ملحق ہے۔میرے ساتھ اُس وقت اجمیری صاحب بھی تھے۔جو چوک میں کھڑے ہوکر میرا انتظار کر رہے تھے۔چونکہ وہ اُس وقت بیمار تھے، وہ جلدی جانا چاہتے تھے اس لئے وہ