انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 417

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف۔۔۔۔میاں فخرالدین ملتانی کا حصہ ہمیں کسی مطالبہ کی ضرورت نہیں خلیفہ خود چاہے تو تحقیق کر لے۔(اس موقع پر مولوی ظفر محمد مولوی ظفر محمد صاحب کی حلفیہ شہادت صاحب کا طلفی بیان لیا گیا۔اور انہوں نے حلفیہ اس واقعہ کی تصدیق کی ) میں نے کہا کہ پہلے شیخ صاحب کے لڑکے کے ذریعہ پھر دفتر کی پیٹھی کے ذریعہ سے میں ان سے کہہ چکا ہوں کہ اگر ملزم کا نام بتائیں اور الزام بتا ئیں تو میں تحقیق کر سکتا ہوں لیکن انہوں نے نظام سلسلہ کی ہتک کی اور جواب تک دینا پسند نہ کیا اور کہا کہ ہم مقدمہ دائر نہ کریں گے سلسلہ بطور خود تحقیق کرے حالانکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اس وقت تک ہمارے پاس کوئی ایسی رپورٹ نہیں پہنچی جس پر جائز طور پر باز پرس کی جاسکے اور ان سے امداد چاہی گئی تھی کہ ایسی رپورٹ کی خبر دیں تو کارروائی شروع کر دی جائے گی۔پھر میں نے مولوی ظفر محمد صاحب سے کہا کہ ایک رنگ میں تو آپ کے ذریعہ بھی ان کو موقع دے دیا گیا مگر اس سے بھی انہوں نے فائدہ نہ اُٹھایا اور سلسلہ کے پاس مقدمہ پیش کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی اس لئے اب میں کسی صورت میں سلسلہ کی طرف سے تحقیق نہیں کرونگا۔بہر حال الزام انفرادی جُرم کا ہے اور مدعی کا فرض ہے کہ وہ خود الزام لگائے اور اس کا ثبوت مہیا کرے۔تحقیقات کیوں نہ کی گئی غرض اس وقت میں نے اپنے ارادہ کو کہ ان کے متکبرانہ رویہ کی وجہ سے اُس وقت تک ان کے بارہ میں سلسلہ ہاتھ نہ ڈالے گا جب تک یہ خود مدعی نہ نہیں، اور بھی پختہ کر لیا۔اور چونکہ اس سے پہلے میں نے ناظر امور عامہ کو ہدایت دے رکھی تھی کہ مقدمہ کے ختم ہوتے ہی ملزم کے ان رشتہ داروں کے خلاف جنہوں نے اس کی نا واجب مدد کی ہو کا رروائی کی جائے۔اس کے بعد میں نے ناظر امور عامہ سے کہہ دیا کہ اب وہ میری ہدایت منسوخ سمجھی جائے اور جب تک شکایت نہ ہو کوئی کا رروائی نہ کی جائے۔( خان صاحب مولوی فرزند علی مولوی فرزند علی صاحب کی حلفیہ شہادت صاحب نے ملنا بیان کیا کہ یہ درست ہے۔پہلے حضور نے ایسا حکم دیا ہوا تھا مگر بعد میں ممانعت فرما دی ) لیکن اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یقینا یہ لوگ خود ذمہ دار ہیں، بیٹا تو مجھے کہتا ہے کہ آپ رعایت کرتے ہیں