انوارالعلوم (جلد 14) — Page 396
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ یہ شکایات بھی دو سال کے عرصہ میں صرف اسی ایک دو ماہ کے عرصہ میں۔باقی تمام ڈیڑھ ھ دو سال وہ ناکام رہے۔“ مجھے قطعاً یاد نہیں آتا کہ میں نے یہ فقرہ کسی گفتگو کے دوران میں کہا کہ اب تو ہمارا جلدی ہی اخراج ہونے والا ہے۔یا اب ہمارے تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اور اس کے الفاظ کا اشارہ حضرت صاحب کے کسی خطبہ کی طرف ہو۔۱۲۔بجواب اس کے کہ آپ کے پاس اس امر کا کیا ثبوت ہے کہ حضرت صاحب نے آپ کیلئے سی۔آئی۔ڈی مقرر کی ہے عرض ہے کہ اس کا ثبوت میرا مشاہدہ اور رپورٹروں کا عمل اور رپورٹروں کا بار بار میرے سی۔آئی۔ڈی کہنے پر ان کا انکار نہ کرنا۔اور رپورٹروں کا خفیہ طور پر بار بار میرے پاس آ کر مجھے اُکسا کر بھڑکا کر اور میرے خلاف طبع باتیں سنا کر اشتعال دلا کر مجھے اس پر یقین کرنے کیلئے کافی ہے۔پھر مولوی عبد الاحد اور ماسٹر غلام حیدر اور مولوی تاج دین وغیرہ کا الگ کھڑے ہو کر سر گوشیاں کرنا وغیرہ سب امور ایسے ہیں کہ جو مجھے اس امر کا باور کرانے کیلئے کافی ہیں۔بجواب کمیشن عرض ہے کہ مجھ سے ان میں سے کسی نے زبانی طور پر اقرار نہیں کیا مگر عملی طور پر ان کا رویہ بالکل مین تھا۔غالباً کسی اور نے بھی ان کا نام لیا تھا کہ یہ آدمی خفیہ مقرر ہیں۔مگر یاد نہیں کہ وہ کون تھے یا تھا۔مگر ان کا رویہ ایسا رہا ہے کہ کسی دوسرے کے کہنے کی ضرورت نہیں۔۱۳۔اس کے بعد دوبارہ ایک تحریری بیان دیا۔جس میں یہ لکھا کہ پہلے بیان میں ذمہ وارلوگوں کے خلاف شکایت سے مراد میری خود خلیفہ اسیح سے ہے۔پھر لکھا ہے۔ہاں یہ میں ضرور عرض کروں گا کہ اس امتیازی سلوک کا جو احسان علی وغیرہ سے ہمارے معاملہ میں کیا گیا ہم کو رنج اور سخت رنج پہنچا۔مگر اس رنج کا اثر نَعُوذُ بِاللهِ اتنا وسیع نہیں کہ ہمارے ایمان اور عمل پر کسی طرح اثر انداز ہو۔پھر یہ کھا کہ مصری صاحب کا بیان تھا کہ خلیفہ مسیح نے بار بار اور وثوق سے تسلی دلائی ہے ا کہ چوری کے معاملہ میں احسان علی ملوث ہے۔مگر دورانِ مقدمہ میں کوئی کارروائی نہیں کر سکتے ، اس کے بعد کریں گے۔اس پر مصری صاحب نے مرزا عبدالحق صاحب سے مشورہ کیا۔جنہوں نے کہا کہ قانونا دوران مقدمہ میں ایسی کارروائی میں کچھ حرج نہیں مگر پھر بھی ان کو اہانت اور جھوٹے الزامات لگانے سے نہیں روکا گیا۔خلیفہ امسیح نے تو یہ سلوک کیا ان کے