انوارالعلوم (جلد 14) — Page 372
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) آدمیوں کو اونچا کرنے سے ہے ایسے آدمیوں کو جن کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز کے قیام اور زکوۃ کی ادائیگی سے نہ تجارت غافل کرتی ہے اور نہ بیچ۔گویا پرندے کی جود و خاصیتیں تھیں ان دونوں کا مومنوں کے اندر پایا جانا بھی بیان کر دیا گیا اور بتا دیا گیا کہ عمل صالح مومن کو اڑا کر اللہ تعالیٰ کی طرف لے جاتا ہے۔حدیثوں میں بھی آتا ہے کہ جب کوئی مومن مرتا ہے تو اُس کی روح کو فرشتے آسمانوں کی طرف لے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دروازے کھول دو ایک مومن کی روح آتی ہے مگر جب کا فرمرتا ہے تو اُس کی روح اُٹھائی نہیں جاتی بلکہ نیچے پھینکی جاتی ہے۔غرض طیر سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی روحیں ہیں جو دین کیلئے ہر قسم کی بلندیوں پر چڑھنے کیلئے تیار رہتی ہیں وہ مشکلات کی پرواہ نہیں کرتیں اور نہ مصائب سے گھبراتی ہیں بلکہ ہر قسم کی قربانیوں کیلئے آمادہ اور تیار رہتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دفعہ ایک صحابی نے جنگِ بدر کے موقع پر کہا۔یا رسول اللہ ! آپ حکم دیجئے ہم اپنے گھوڑے سمندر میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں اور ذرا بھی ہمارے اندر ہچکچاہٹ پیدا نہیں ہوگی کہ حضور نے یہ حکم کیوں دیا ؟ گویا مومن کو پرندہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اُن قابلیتوں کا ذکر کیا ہے جو مومنوں میں پائی جاتی ہیں۔اور بتایا ہے کہ وہ سفلی زندگی کی بجائے علوی زندگی اختیار کرتے اور نیچے جھکنے کی بجائے اوپر کی طرف پرواز کرتے ہیں۔ہد ہد کے متعلق تاریخی تحقیق اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں بد بد نام کیوں رکھا گیا ہے؟ اور گو اس کا عقلی جواب میں قرآن کریم سے ہی دے چکا ہوں مگر اب بتا تا ہوں کہ ہد ہد سے مراد کیا ہے؟ ہد ہد کا پتہ لینے کیلئے جب ہم بنی اسرائیل کی کتابیں دیکھتے ہیں اور اس امر پر غور کرتے ہیں کہ کیا ان میں کسی ہد ہد کا ذکر آتا ہے یا نہیں۔تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں یہودیوں میں کثرت سے بد دنام ہوا کرتا تھا جو عبرانی سے عربی میں بدل کر ہد ہد ہو گیا۔جیسے عبرانی میں ابراہام کہا جاتا ہے مگر جب یہ لفظ عربی میں آیا تو ابراہیم بن گیا۔اسی طرح عبرانی میں یسوع کہا جاتا ہے مگر عربی میں عیسیٰ کہتے ہیں۔اسی طرح عبرانی میں موشے کہا جاتا ہے مگر عربی میں یہی نام موسیٰ ہو گیا۔اب بھی کسی اہلِ عرب کو لکھنو کہنا پڑے تو وہ لکھنو نہیں بلکہ لکھنا ہو“ کہے گا۔اسی طرح عبرانی میں ہر د کہا جاتا تھا مگر چونکہ قرآن عربی میں ہے اس لئے جب یہ نام اس میں آیا تو ہد ہد ہو گیا۔