انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 371

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) فرشتوں کی ترقی کیلئے ہم نے کئی کئی پر بنائے ہوئے ہیں۔مگر اے انسانو ! تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ تمہارے لئے بھی ترقی کے مواقع موجود ہیں بلکہ اگر تم چاہو تو فرشتوں سے بھی آگے بڑھ سکتے ہو۔پس تم میں سے جو کوئی عزت حاصل کرنا چاہتا ہے اُسے یاد رکھنا چاہئے کہ تمام عزت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اسی کی طرف سچی اور پاکیزہ روحیں بلند ہوتی ہیں۔اَلْكَلِمُ الطَّيِّبُ یعنی خدا کا کلام جن کو میسر ہو وہ ترقی کر جاتے ہیں مگر خالی کلام نہیں بلکہ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ اعمال صالحہ کا اُسے سہارا چاہئے۔گویا الكَلِمُ الطَّيِّبُ ایک پرندہ ہے مگر وہ اکیلا نہیں اُڑ سکتا بلکہ اعمال صالحہ کی مدد سے صعود کرتا ہے۔اسی طرح اُس کے دو پر بن جاتے ہیں جن کی وجہ سے وہ آسمانِ روحانیت کی طرف پرواز کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ پرندے کی دو خاصیتیں ہوتی ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ اونچا جاتا ہے یعنی فضا میں اُڑتا ہے دوسرے یہ کہ اُس کا آشیانہ ہمیشہ اونچا ہوتا ہے۔جو پرندے آشیانوں میں رہتے ہیں وہ درختوں کی ٹہنیوں پر آشیانہ بناتے ہیں اور جو بغیر آشیانے کے رہتے ہیں وہ بھی درخت پر بسیرا کرتے ہیں نیچے نہیں بیٹھتے۔اب یہی دو خاصیتیں قرآن کریم میں مومنوں کے متعلق بیان کی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا قِيلَ انْشُزُوا فَانْشُرُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ۵۳ اے مومنو! جب تمہیں کہا جائے کہ اٹھو! تو فوراً اُٹھ کھڑے ہوا کرو اور نبی یا اُس کے خلیفہ کی آواز پر دوڑ پڑا کرو کیونکہ يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَتٍ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جو تم میں سے مومن ہیں اور علم حقیقی رکھنے والے ہیں اونچا کر دے گا اور انہیں درجات میں بڑھا دے گا۔گو یا اوپر اڑنے کی خاصیت کا مومنوں کے تعلق میں ذکر آ گیا۔دوسری خاصیت یہ تھی کہ پرندہ ہمیشہ اپنا آشیانہ اونچا بناتا ہے اس کا بھی مومنوں میں پایا جانا قرآن کریم سے ثابت ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَفِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُو وَلا صَالِ - رِجَالٌ لا تُلهيهِمْ تِجَارَةً وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ وَايْتَاءِ الزَّكوة ۵۴ یہ نور کچھ گھروں میں ہے جن کے متعلق ہمارا حکم ہے کہ انہیں اونچا کر دیا جائے۔ان گھروں میں خدا کا نام لیا جاتا ہے اور صبح و شام اس کی تسبیح کی جاتی ہے۔مگر فرماتا ہے دجال ہماری مراد گھروں سے نہیں بلکہ