انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 370

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (1) کے نیچے اُس کا پرندہ بندھا ہوا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟ سو جب ہمیں خدا تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ یہ پرندہ ہر انسان کی گردن کے نیچے ہے تو ہمیں یہ تو نظر آ رہا ہے کہ کوئی پرندہ گردن کے نیچے نہیں ہوتا۔پس صاف معلوم ہوا کہ اس پرندے سے مراد کوئی اور چیز ہے اور وہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ قوت عمل یا نتیجہ عمل کا نام خدا تعالیٰ نے طائر رکھا ہے۔پس جس قسم کے بھی انسان اعمال بجالاتا ہے اُن کی پرندے والی شکل بنتی چلی جاتی ہے۔اگر تو انسان نیک اعمال بجالاتا ہے تو وہ انسان کو آسمان روحانیت کی طرف اُڑا کر لے جاتے ہیں جیسے ہوائی جہاز فضائے آسمانی میں اُڑا کر لے جاتا ہے۔اور اگر اعمال بُرے ہونگے تو لازماً پرندہ بھی کمزور ہو گا اور انسان بجائے اُوپر اُڑنے کے نیچے کی طرف گرے گا۔اب قرآن کریم ایک طرف تو یہ مضمون بیان کرتا ہے کہ ہم نے ہر انسان کے ساتھ ایک طائر باندھ رکھا ہے اگر وہ اچھے عمل کرے گا تو وہ طائر اسے اوپر اُڑا کر لے جائے گا اور اگر بُرے اعمال کرے گا تو وہ اُسے نیچے گرادے گا۔اور دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی مضمون کو ان الفاظ میں ادا فرماتے ہیں کہ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَاَبَوَاهُ يُهَوّدَانِهِ أَوْ يُنَصِرَانِهِ اَوْ يُمَحِسَانِه ۵۰ کہ ہر انسان کو خدا تعالیٰ نے فطرت صحیحہ پر پیدا کیا ہے پھر ماں باپ اُسے یہودی یا مجوسی یا نصرانی بنا دیتے ہیں گویا انسان میں اُڑنے کی طاقت موجود ہے اور اُسے پرواز کے پر عطا کئے گئے ہیں۔یہی مضمون كُلَّ اِنْسَانِ الْزَمُنهُ طَئِرَهُ فِي عُنُقِهِ میں بیان کیا گیا ہے کہ جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے اُس کا پرندہ بھی اُس کے ساتھ پیدا کر دیا جاتا ہے۔پھر بعض ماں باپ تو اُس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں اور بعض جو بچ جاتے ہیں اُن کیلئے پرواز کی صورت پیدا ہو جاتی ہے اور عمل نیک کی وجہ سے اُن کا طائر یعنی فطرتی مادہ سعادت ترقی کرتا رہتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ فاطر میں فرماتا ہے۔اَلحَمدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَئِكَةِ رُسُلًا اُولِى أَجْنِحَةٍ مَّثْنى وَثُلكَ وَرُبعَ ۵۱ یعنی سب تعریفیں اُس اللہ کی ہیں جو آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والا ہے اور فرشتوں کو ایسی حالت میں رسول بنا کر بھیجنے والا ہے جب کہ کبھی تو اُن کے دو دو پر ہوتے ہیں کبھی تین تین اور کبھی چار چار۔پھر وہ انسانوں کی طرف آتا ہے اور فرماتا ہے۔مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فِللَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُولئِكَ هُوَيَبُورُ ۵۲ فرماتا ہے تمہیں یہ تو معلوم ہو گیا کہ مختلف