انوارالعلوم (جلد 14) — Page 358
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) ہے یہ قوم بھی جو اتنی دور رہتی ہے مجھتی ہے کہ سلیمان ظالمانہ طور پر حملے نہیں کیا کرتا۔اگر ہم اپنے دروازے بند کر لیں گے تو یہ ہم پرحملہ نہیں کرے گا اور ہماری کسی چیز کو نقصان نہیں پہنچے گا۔وادی النمل کی تحقیق باقی رہا واد النمل کے الفاظ سویادر رکھنا چاہئے کہ تاج العروس جو لغت کی مشہور کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ شام کے ملک میں ٣٣ جبرین اور عسقلان کے درمیان ایک علاقہ ہے جسے وادی النمل کہا جاتا ہے۔۳۳م در عسقلان کے متعلق تقویم البلدان صفحہ ۲۳۸ پر لکھا ہے کہ عسقلان ساحل سمندر کے بڑے بڑے شہروں میں سے ایک شہر تھا جو غز سے جو سینا کے ملحق فلسطین کی ایک بندرگاہ ہے بارہ میل اوپر شمال کی طرف واقع ہے۔اور جبرین شمال کی طرف کا ایک شہر معلوم ہوتا ہے جو ولایت دمشق میں واقع ہے۔اسے پس وادی النمل ساحلِ سمندر پر یروشلم کے مقابل پر یا اس کے قریب دمشق سے حجاز کی طرف آتے ہوئے ایک وادی ہے جو انداز دمشق سے سو میل نیچے کی طرف ہو گی۔ان علاقوں میں حضرت سلیمان کے وقت تک عرب اور مدین کے قبائل بہت بہتے تھے۔( مقام کی وضاحت کیلئے دیکھو نقشہ فلسطین و شام بعہد قدیم و عہد جدید نیلسنز انسائیکلو پیڈیا) اب رہ گیا نملہ سو قاموس میں البرق کے ماتحت لکھا ہے۔وَالْأَبْرَقَهُ مِنْ مِيَاهِ نمله ۳۵ یعنی ابرقہ ایک وادی ہے جہاں نملہ قوم کے چشمے ہیں۔غرض نملہ قوم بھی مل گئی وادی النمل کا بھی پتہ لگ گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یہ علاقہ شام میں حضرت سلمان کے علاقہ کے نزدیک تھا اور یہ عجیب بات ہے کہ اس قسم کے نام پرانے زمانہ میں بڑے مقبول تھے۔چنانچہ جنوبی امریکہ میں بعض قوموں کے نام بھیڑیا سانپ بچھو اور کنکھجو ر وغیرہ ہوا کرتے تھے بلکہ ہمارے ملک میں ہی ایک قوم کا نام کا ڈھا ہے۔نورالدین کا ڈھالا ہور کے ایک مشہور شخص ہوئے ہیں۔اسی طرح ایک قوم کا نام کیڑے ہے ایک کا نام مکوڑے ہے۔کشمیر میں ایک قوم کا نام ہاپت ہے جس کے معنی ریچھ کے ہیں اسی طرح حضرت سلیمان جس جگہ سے گزرے وہاں جو قوم رہتی تھی اُس کا نام نملہ تھا۔اب میں طیر کی بحث کو لیتا ہوں۔طیر کے متعلق جو امور قابل غور خَلق طَيْر کا مسئلہ ہیں ان میں سے ایک اہم امر خَلقِ طَيْرِ کا مسئلہ ہے۔میں اس کے متعلق گذشتہ سے پیوستہ سال جلسہ سالانہ کی تقریر میں روشنی ڈال چکا ہوں۔لیکن مضمون کی