انوارالعلوم (جلد 14) — Page 348
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (۶) امید کرتا ہوں کہ اگر میں ان کے خلاف طبیعت کوئی بات کہہ دوں تو وہ مجھے معاف کریں گے ۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی یا بری کوئی مخلوق جن ضرور ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔ مگر سوال یہ نہیں کہ جن کوئی مخلوق ہے یا نہیں بلکہ سوال اُن جنوں کا ہے جو حضرت سلیمان کے ساتھ تھے اور حضرت سلیمان کے متعلق اُن جنوں کا ذکر ہے جن کا با قاعدہ لشکر تھا۔ وہ خبریں لا لا کر دیا کرتے تھے ، وہ با قاعدہ لڑائیوں میں ساتھ جاتے تھے حتی کہ جنوں کے پیروں کے نیچے چیونٹیاں بھی کچلی جاتی تھیں ۔ پس اس وقت سوال اُن جنوں کا ہے جو ہر وقت حاضر رہتے تھے اور جن کی فوجیں رائٹ لیفٹ کرتی رہتی تھیں ۔ صلى الله اب سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا رسول کریم ﷺ کے پاس جنوں کی آمد کا ہے کہ آیا قرآن میں حریت چاہئے ہے کہ اُس کے پاس جن سلیمان کے متعلق ہی یہ ذکر آیا ہے یا اور کسی نبی کے متعلق بھی لکھا ہے آئے ۔ سو جب ہم اس غرض کیلئے قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو سورہ احقاف میں ہمیں یہ آیات نظر آتی ہیں ۔ وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا انْصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِينَ - قَالُوا يَقَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتبًا أُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَى طَرِيقٍ مُسْتَقِيمٍ - يُقَوْمَنَا أَجِيبُوا دَاعِيَ اللهِ وَآمِنُوا بِهِ يَغْفِرُ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرُكُمْ مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ۲۰ یعنی اُس وقت کو بھی یاد کرو جب ہم جنوں میں سے کچھ لوگ جو قرآن سننے کی خواہش رکھتے تھے تیری طرف پھیر کر لے آئے ۔ جب وہ تیری مجلس میں پہنچے تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ خاموش ہو جاؤ تا کہ قرآن کی آواز ہمارے کانوں میں اچھی طرح پڑے ۔ جب قرآن کی تلاوت ختم ہو گئی تو وہ اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے اور انہوں نے اسلام کی اشاعت شروع کر دی ۔ اور اپنی قوم سے کہا اے ہماری قوم ! ہم نے ایک کتاب کی تلاوت سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اُتاری گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسی سچا نبی تھا اور اُس نے جو کچھ کہا تھا خدا کی طرف سے کہا تھا یہ کتاب حق کی طرف بلاتی ہے اور سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔ اے ہماری قوم کے لوگو! اللہ تعالی کے منادی کی آواز کو سنو اور اُسے قبول کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام گناہ بخش دے گا اور تمہیں درد ناک عذاب سے پناہ دے گا ۔