انوارالعلوم (جلد 14) — Page 347
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) معنے لئے جاسکتے ہیں کہ انہیں پرندوں سے کام لینے کا علم آتا تھا۔جیسے کبوتروں سے خبر رسانی وغیرہ کا کام لے لیا جاتا ہے۔پس قرآن میں سَخَّرُنَا الطَّيْرَ ہے يُسَبِّحْنَ الطَّيْرَ نہیں ہے۔دوسری آیت یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا سَخَّرُنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ - وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً یہاں بھی طَيْرَ کا نَاصِبُ سَخَّرَ ہے اور میں حیران ہوں کہ مفسرین نے پرندوں کے تسبیح کرنے کے معنے کہاں سے لئے۔تیسری آیت یہ ہے وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُدَ مِنَّا فَضْلًا يجِبَالُ اَوِبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ - ہم نے داؤد پر بڑا فضل کیا اور پہاڑوں سے کہا اے پہاڑ و! تم بھی اس کی تسبیح کا تیج سے جواب دیا کرو۔اسی طرح ہم نے اسے پرندے بھی دیئے۔گویا یہاں آتَيْنَا الطَّير فرمایا گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ پرندے تسبیح کیا کرتے تھے۔غرض طير کا ناصب یا سَخَّرَ ہے یا اتی ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے حضرت داؤد کو طیر بھی دیئے تھے۔لیکن میں کہتا ہوں اگر اس کے معنے تسبیح کے بھی کر لو تو جب زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہے تو پرندوں کی تسبیح میں کونسی بڑی بات ہو سکتی ہے۔مجھے ہمیشہ آجکل کے علماء پر تعجب آیا کرتا ہے کہ جب حضرت داؤد یا حضرت سلیمان یا حضرت عیسیٰ عَلَيْهِمُ السَّلام کے متعلق کوئی آیت آئے تو اس کے وہ اور معنی لے لیتے ہیں۔لیکن اگر ویسی ہی آیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے آ جائے تو اس کے معنی اور کر لیتے ہیں۔حضرت داؤد کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پہاڑ اس کے ساتھ ساتھ تسبیح کرتے تھے۔تو کہتے ہیں۔پہاڑ واقعہ میں سُبْحَانَ اللهِ سَبْحَانَ اللہ کیا کرتے تھے۔اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ کہے کہ ہم نے زمین و آسمان آپ کیلئے مسخر کر دیئے تو کہیں گے یہاں تشبیہہ مراد ہے۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ ذکر آئے کہ انہوں نے مُردے زندہ کئے تو کہیں گے یہاں مُردوں سے روحانی مُردے مراد ہیں۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق اگر یہ الفاظ آ جائیں تو جب تک وہ یہ نہ منوا لیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے مُردوں کے نتھنوں میں پھونک مار کر انہیں زندہ کر دیا تھا ، اُس وقت تک انہیں چین ہی نہیں آتا۔جنات کا ذکر اس کے بعد میں جنوں کو لیتا ہوں۔یہ اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت میرے سامنے ایک ایسے دوست بیٹھے ہیں جو جنوں کے قابض کہلاتے ہیں اور بائیں طرف وہ بیٹھے ہیں جو کوشش کرتے رہتے ہیں کہ جن اُن کے قبضہ میں آجائیں۔میں