انوارالعلوم (جلد 14) — Page 342
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) أَوَّابٌ وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَاتَيْنةَ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَاب ۱۵ یعنی ہمارے بندے داؤ کو یاد کر و جو بڑی طاقت کا مالک تھا اور ہماری درگاہ میں بار بار جھکتا تھا ہم نے اُس کے لئے پہاڑ مسخر کر دئیے جو صبح و شام تسبیح کرتے تھے۔اسی طرح پرندے اُس کی خاطر ا کٹھے کر دیے تھے اور وہ سب کے سب خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے والے تھے۔اور ہم نے اُس کی سلطنت کو خوب مضبوط بنادیا تھا اور اُسے حکمت دی تھی اور ایسے دلائل سکھائے تھے جو دشمن کا منہ بند کر دیں۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کے قبضہ میں جن بھی تھے ، پرندے بھی تھے، پہاڑ بھی تھے۔وہ چیونٹیوں کی زبان بھی جانتے تھے۔ایک ہد ہد بھی انہوں نے رکھا ہوا تھا جو اُن کے بڑے بڑے کام کرتا تھا۔اب جن لوگوں نے متشابہہ کو مفسرین کی عجیب و غریب قیاس آرائیاں محکام سے پڑھنے کی کوشش نہیں کی وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان اور حضرت داؤد کے قبضے میں پہاڑ تھے۔جن تھے ، پرندے تھے ، حیوانات تھے اور سب مل کر حضرت داؤد کے ساتھ ذکر الہی کرتے تھے۔جب وہ کہتے سُبْحَانَ اللهِ تو پہاڑ بھی اور پرندے بھی اور جن بھی اور حیوانات بھی سب سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللہ کہنے لگ جاتے۔جیسے کشمیری واعظوں کا دستور ہے کہ لیکچر دیتے ہوئے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ستانے کیلئے کہہ دیتے ہیں۔پڑھو درود۔وہ بھی گویا اسی طرح کرتے تھے۔جب خود ذکر الہی کرتے کرتے تھک جاتے تو کہتے ہمالیہ ! پڑھو درود۔اور وہ درود پڑھنے لگ جاتا۔پھر جب انہیں آرام آجاتا تو کہتے چپ کرو اب میں خود درود پڑھتا ہوں۔بعض کہتے ہیں پہاڑوں وغیرہ کا سُبحَانَ اللهِ کہنا کونسی بڑی بات ہے وہ تو با قاعدہ رکوع وسجود بھی کرتے تھے۔جب حضرت داؤ دسجدہ میں جاتے تو سارے پہاڑ ، پرند اور چرند بھی سجدہ میں چلے جاتے اور جب وہ رکوع کرتے تو سب رکوع کرنے لگ جاتے۔بعض کو اس تاویل سے بھی مزا نہیں آیا وہ کہتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ حضرت داؤد جہاں بھی جاتے پہاڑ آپ کے ساتھ چل پڑتے۔حضرت داؤ د تو شام میں تھے اور یہ ہمالیہ ، شوالک اور الپس سب آپ کے ساتھ ساتھ پھرا کرتے تھے۔اسی طرح پرندے بھی مل کر تسبیح کرتے تھے۔اُن دنوں چڑیاں بھی چوں چوں نہیں کرتی تھیں، بکریاں میں میں نہیں کرتی تھیں بلکہ سب سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ کیا کرتی تھیں۔کوئی یہ نہ پوچھے کہ بکری کس طرح پرندہ ہو گیا ؟ کیونکہ تفسیروں میں اسی طرح لکھا