انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 324

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (1) کاملا ایک دن جماعت کرانے لگا تو اُس نے دیکھا کہ مقتدی آسودہ حال ہیں۔اس پر نماز میں ہی اسے خیال پیدا ہوا کہ اگر یہ مجھے تھے تحائف دیں تو میرے پاس بڑا مال اکٹھا ہو جائے۔پھر جب مال جمع ہو گیا تو میں اُس سے تجارتی سامان خریدوں گا اور خوب تجارت کروں گا۔کبھی دتی میں اپنی اشیاء لے جاؤں گا کبھی کلکتے چیزیں لے جاؤں گا۔غرض اسی طرح وہ خیالات دوڑا تا چلا گیا۔پھر ہندوستان اور بخارا کے درمیان اُس نے تجارت کی سکیم بنانی شروع کر دی۔اب بظاہر وہ رکوع اور سجدہ کر رہا تھا مگر خیالات کہیں کے کہیں تھے۔ایک بزرگ بھی اُن مقتدیوں میں شامل تھے۔اُن پر کشفی حالت طاری ہوئی اور انہیں امام کے تمام خیالات بتا دیے گئے۔اس پر وہ نماز توڑ کر الگ ہو گئے۔جب اُس ملا نے نماز ختم کی تو وہ اُن پر ناراض ہوا اور کہنے لگا۔تمہیں یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ نماز امام کے پیچھے پڑھا کرتے ہیں۔وہ کہنے لگے مسئلہ تو مجھے معلوم ہے مگر میری صحت کچھ کمزور ہے میں آپ کے ساتھ چلا اور دتی تک گیا۔پھر دتی سے بخارا گیا اور میں تھک کر رہ گیا اور چونکہ اتنے لمبے سفر کی میں برداشت نہیں کر سکتا تھا اس۔اس لئے آپ سے الگ ہو گیا۔اس پر وہ شرمندہ ہو کر خاموش ہو گیا۔اب یہ بیہودہ خیالات تھے جو اُس کے دل میں پیدا ہوئے مگر ان خیالات میں بھی وہی ترتیب رہی جو اس کے جذبات قلب پر مبنی تھی۔یہی حال نیک خیالات کا ہے اور وہ بھی اسی رنگ میں پیدا ہوتے ہیں۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہوگا کہ مثلا تم سجدہ میں گئے ہوا اور تم سُبحَانَ رَبِّيَ الأعْلی کہتے ہو تو اُس وقت تمہارا دل بھی حاضر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی سبوحیت کا نقشہ تمہارے سامنے آنے لگتا ہے۔اُس وقت گو تمہارے منہ سے دوسری اور تیسری دفعہ بھی سُبْحَانَ رَبِّي الاغلی نکل رہا ہوتا ہے مگر تمہارا دل پہلے سُبْحَانَ رَبِّي الا علی کو ہی چھوڑنے کو نہیں چاہتا۔یا اَلحَمدُ لِلهِ کہتے ہو اور اُس وقت تمہارا دل حاضر ہوتا ہے تو اُس وقت حمد کے ماتحت اللہ تعالیٰ کے احسانات تمہارے سامنے یکے بعد دیگرے آنے شروع ہو جاتے ہیں اور تم انہی احسانات کی یاد میں محو ہو جاتے ہو۔اب اگر ایسی حالت میں تم کسی کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہو تو گوتم اُس کی اقتدا میں کبھی سجدہ کرو گے، کبھی رکوع میں جاؤ گے اور منہ سے سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیم وغیرہ بھی کہو گے مگر تمہارے دل پر حمد ہی جاری ہوگی۔تو قلوب پر بعض روحانی واردات آتی ہیں اور وہی حقیقی نماز ہوتی ہیں۔اُس وقت انسان کو الفاظ منہ سے نکال رہا ہوتا ہے مگر اُس کے جذبات روحانیت کے لحاظ سے ایک خاص رستہ پر چل رہے ہوتے