انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 325

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) ہیں۔پس وہ واردات جو انسان مومن پر آتی ہیں قرآن کریم کی ترتیب ان پر مبنی ہے۔وہ نماز کے بعد روزہ کا ذکر نہیں کرتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میری یہ ہدایت پڑھنے کے بعد کیا کیا خیالات انسان کے اندر پیدا ہونگے۔پس وہ خیالات جو اس کے نتیجہ میں انسانی قلب میں پیدا ہو سکتے ہیں قرآن کریم ان کو بیان کرے گا۔غرض بالعموم مذہبی کتابوں کی ترتیب خصوصا قرآن مجید کی ترتیب ظاہری تعلق پر نہیں بلکہ ان جذبات پر ہے جو قرآن کریم پڑھتے وقت پیدا ہوتے ہیں۔اور چونکہ خدائے عالم الغیب جانتا تھا کہ فلاں آیت یا فلاں حکم کے نتیجہ میں کس کس قسم کے خیالات پیدا ہو سکتے ہیں اس لئے بجائے ظاہری ترتیب کے اُس نے قرآن کریم کی ترتیب اُن جذبات پر رکھی جو قلب مومن میں پیدا ہوتے ہیں۔مگر اس کا نتیجہ یہ ضرور نکلتا ہے کہ جو لوگ غور سے اور محبت اور پیار کے جذبات کے ساتھ قرآن مجید کو نہیں پڑھتے انہیں یہ کتاب پھیکی معلوم ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں یہ کیا ہوا کہ ابھی موسیٰ" کا ذکر تھا پھر نوح کا ذکر شروع کر دیا پھر شعیب کے حالات بیان ہونے لگ گئے ابھی سُود کا ذکر تھا کہ ساتھ نماز کا ذکر آگیا۔ان کے نزدیک یہ باتیں اتنی بے جوڑ ہوتی ہیں کہ وہ ان کا آپس میں کوئی تعلق سمجھ ہی نہیں سکتے۔مگر وہی مضمون جب کسی عالم کے پاس پہنچتا ہے تو وہ سنتا ہے اور سر دھنتا ہے۔اگر کہو کہ پھر اس کا علاج کیا ہے؟ تو قرآنی علوم سے فائدہ اُٹھانے کا اصول گو میرے مضمون سے اس کا کوئی تعلق نہیں مگر چونکہ میں نے بتایا ہے کہ انسان بسا اوقات جذبات کی رو میں بہہ جاتا ہے اس لئے میں بھی جذبات کے ماتحت دو تین علاج بتا دیتا ہوں۔پہلا علاج یہ ہے کہ انسان سارے کلام کو پڑھے اور بار بار پڑھے یہ نہیں کہ کوئی خاص حصہ چن لیا اور اُسے پڑھنا شروع کر دیا۔دوم اُس وقت پڑھے جب اُس کے دل میں محبت اور اخلاص کا جوش ہو۔جن لوگوں کا جذبہ محبت ہر وقت کامل رہتا ہو ان کیلئے یہ کافی ہے کہ وہ صبح یا شام کا وقت تلاوت کیلئے مقرر کر لیں مگر جن کا جذبہ محبت ایسا کامل نہ ہو وہ اُس وقت تلاوت کیا کریں جب اُن کے دل میں محبت کے جذبات ابھر رہے ہوں۔چاہے دو پہر کو بھر میں یا کسی اور وقت۔سوم قرآن کریم کو اس یقین کے ساتھ پڑھا جائے کہ اس کے اندر غیر محمد ودخزانہ ہے۔جو شخص قرآن کریم کو اس نیت کے ساتھ پڑھتا ہے کہ جو کچھ مولوی مجھے اس کا مطلب بتائیں