انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxv of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxxv

انوار العلوم جلد ۱۴ ۲۹ تعارف کتب سے آگاہ فرمایا اور بتایا کہ مولوی تاج الدین صاحب لائکپوری مولوی فاضل کا خط ملا جس میں انہوں نے ملتانی صاحب کے نظامِ جماعت اور حضور کے خلاف الزامات کا ذکر کیا تھا حضور نے تحقیق کے لئے ایک کمیشن مقرر فرمایا جس نے میاں فخر الدین صاحب سے بیانات لئے۔حضور نے یہ سب بیانات پڑھ کر سنائے اور ایک ایک اعتراض اور الزام کا تفصیلی جواب دیا۔فخر الدین ملتانی صاحب کافی عرصہ سے مخفی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے اور اپنے حلقہ احباب میں جماعت کے خلاف بولتے تھے مگر ڈاکٹر فضل دین صاحب کے گھر ہونے والی چوری کے واقعہ پر خلیفہ وقت کے خلاف ان کا اندرونی گند اور بغض کھل کر سامنے آ گیا۔حضور نے خلافت کی حفاظت اور اس کی عزت اور وقار کی اہمیت بیان کرتے ہوئے جماعت کو نصیحت فرمائی کہ:۔وو تمہاری عزت اسی میں ہے کہ خلافت کی عزت کرو اور جو شخص اس کی بے عزتی کے لئے کھڑا ہو تم اُس سے تعلق نہ رکھو۔بے شک اسلام میں قانون کا اپنے ہاتھ میں لینا جائز نہیں ہے لیکن ایسے شخص سے بیزاری اور قطع تعلق کا اظہار کر کے تم اپنے فرض کو ادا کر سکتے ہو اور اعلان کر سکتے ہو کہ اب یہ شخص ہم میں سے نہیں ہے۔اب یہ بات تمہارے اپنے اختیار میں ہے چاہے تو خدا تعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ کی عزت کو قائم کر کے خود بھی عزت پاؤ اور چاہے تو اس کی عزت پر ہاتھ ڈالو اور خدائی تلوار تمہیں اور تمہاری اولادوں کو تباہ و برباد کر دے۔(۲۴) مشکلات کے مقابلہ میں بہادرانہ طریق عمل اختیار کرو ۱۹۳۷ء میں مقدمہ قبرستان کا واقعہ پیش آیا۔ہوا یوں کہ ایک احمدی لڑکی فوت ہو گئی اُس کی تدفین کے لئے جب احمدی قبرستان پہنچے تو احراریوں نے نعش دفنانے سے روکنا چاہا حالانکہ وہ قبرستان حضور کے آباؤ اجداد کا تھا۔اس پر بعض نوجوانوں اور احراریوں کے درمیان ہاتھ پائی ہوئی اور احمدیوں کے خلاف مقدمہ دائر ہو گیا۔حضور نے متعلقہ احمدیوں کو مشورہ دیا کہ اگر مجرمانہ یا قید کی سزا سنائی جائے تو قید قبول کریں۔مقدمہ میں باقی ملزمان تو رہا ہو گئے مگر حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب کو سزا ہو گئی انہوں نے پندرہ ہیں روز کی جیل کاٹی ، جیل سے رہائی پر