انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 282

انوار العلوم جلد ۱۴ حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل ایک بادشاہ جسے ڈیفنڈر آف فیتھ (DEFENDER OF FAITH) کہا جاتا ہے یعنی محافظ عیسائیت ، اگر وہی بعض مذہبی رسوم کے ادا کرنے سے انکار کر دے تو ملک کی طاقت اور اس کے اتحاد کا کیا باقی رہ جاتا ہے اور بادشاہ کے دل میں یہ سوال تھا کہ جس چیز کو میرا دل نہیں مانتا میں اسے کس طرح حکومت کی خاطر تسلیم کرلوں۔اس حد تک دونوں فریق اپنے اپنے اصول کی تائید میں جھگڑ رہے تھے اور ہم دونوں میں سے کسی کو ملامت نہیں کر سکتے۔اور اگر اس امر کے خیال سے کہ یہ جھگڑا کئی صورتوں میں آئندہ بھی ظاہر ہوتا رہے گا ، بادشاہ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ مسز سمپسن کی بحث کے موقع پر ہی اس قضیہ کو ختم کر دینا چاہئے تو یقیناً انہوں نے ایک اصل کی خاطر قربانی کی۔ہمیں اس وقت تک نہیں معلوم کہ سابق بادشاہ کے اصل عقائد کیا تھے۔آیا صرف عیسائیت کے خلاف یا مذہب کے خلاف؟ اس لئے ہم ان کی تردید یا تائید نہیں کر سکتے لیکن ہم یہ کہنے سے باز نہیں رہ سکتے کہ ان کا جو کچھ بھی عقیدہ تھا، انہوں نے اس کی خاطر ایک عظیم الشان بادشاہت کو چھوڑ نا پسند کیا، اور یہ امر یقیناً ایک قربانی ہے اس کا انکار کسی صورت میں نہیں کیا جا سکتا۔باقی رہا ان کا عقیدہ ، سو ممکن ہے کہ وہ غلط ہو لیکن ایک غلط عقیدہ کیلئے بھی جو قربانی کی جائے ، وہ قربانی ہی ہوتی ہے۔جنہوں نے بچوں کی خاطر جان دی ، ہم اُن کی قربانی کو غلط قربانی کہیں گے لیکن ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ وہ دیانت دار لوگ تھے۔اور اپنے غلط عقیدہ کیلئے جسے وہ سچا سمجھتے تھے ، انہوں نے اپنی جان تک قربان کر کے ثابت کر دیا کہ ان کی روح بلندی کے حصول کیلئے بے تاب تھی گو بعض گناہوں کی شامت کی وجہ سے وہ ہدایت نہ پاسکے۔اسی طرح سابق بادشاہ کا معاملہ ہے۔یعنی بوجہ علم نہ ہونے کے ہم ان کے عقائد کی نسبت گو کوئی رائے نہیں ظاہر کر سکتے لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرف بادشاہت تھی اور ایک طرف ان کے ذاتی عقائد، انہوں نے سب سے پہلا موقع جو ان کو ملا جس میں وہ بادشاہت کو ترک کر سکتے تھے ، اسے ضائع نہ کرتے ہوئے تخت سے دست برداری دے دی۔معاملہ کی اس منزل تک ہم پادریوں پر بھی الزام نہیں لگا سکتے ، ان کی ایک حکومت تھی اور اس کی مذہبی شکل کو قائم رکھنا ان کا فرض تھا ، انہوں نے اس حد تک جو کچھ کیا وہ درست تھا۔اب میں اس معاملہ کو لیتا ہوں جو ذریعہ بن گیا اس جھگڑے کے فیصلہ کا، جو اندر ہی اندر چل رہا تھا۔کہا جا سکتا ہے کہ گو مذہب کا جھگڑا بھی جاری تھا لیکن بادشاہ نے تخت چھوڑا تو