انوارالعلوم (جلد 14) — Page 283
انوار العلوم جلد ۱۴ حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل مسز سمپسن کی شادی کے سوال پر ہے، پھر اسے قربانی کیونکر کہا جا سکتا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں، درحقیقت شادی کے سوال کو اہم ، مذہبی سوال نے بنادیا تھا اور اسے بادشاہ بھی خوب سمجھتے تھے۔پس در حقیقت فیصلہ کی بناء ان اثرات پر تھی جو وہ خیالات پیدا کر رہے تھے جو مذہبی جھگڑے کے نتیجہ میں بادشاہ کے دل میں پیدا ہو رہے تھے۔دوم یہ کہ اس شادی کا سوال بھی ایک اصولی سوال تھا۔پادریوں کو اس شادی پر یہ اعتراض نہ تھا کہ مسٹر سمپسن کے اخلاق اچھے نہیں۔اس بارہ میں سب لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں۔اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ یہ عورت طلاق یافتہ ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اسے طلاق کس نے دی تھی؟ کیا انگلستان کے اس قانون نے نہیں جسے پارلیمنٹ پاس کر چکی ہے۔اگر طلاق بُری ھے ہے تو پارلیمنٹ نے یہ قانون پاس کیوں کیا تھا؟ اور اگر بُری نہیں تو بادشاہ کی شادی پر اعتراض کیوں تھا اور کس قانون کے ماتحت تھا؟ یہ امر بار ہا واضح ہو چکا ہے کہ سابق بادشاہ قانون کے مطابق شادی کرنے کا پورا اختیار رکھتے تھے۔اگر یہ بات ہے تو پھر یہ کہنا کہ بادشاہ نے بادشاہت کو ایک عورت کی خاطر چھوڑ دیا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔مقابلہ تو اُن دو چیزوں کا ہوتا ہے جو ایک وقت میں جمع نہ ہوسکیں۔جب قانون بادشاہ کو شادی کا پورا اختیار دیتا تھا تو پھر شادی کی خاطر انہوں نے تخت کو کس طرح چھوڑا ؟ غرض سوال یہ نہ تھا کہ بادشاہ شادی کریں یا تخت پر رہیں بلکہ اس کے علاوہ کوئی اور سوال تھا جس کی وجہ سے بادشاہ کو یہ طریق اختیار کرنا پڑا اور وہ سوال یہ تھا کہ ان پر یہ زور ڈالا جاتا تھا کہ اگر ایک مطلقہ عورت سے آپ نے شادی کی تو ملک کے دوٹکڑے ہو جائیں گے۔جو لوگ طلاق کے قائل نہیں ، وہ اس کی برداشت نہ کر کے حکومت سے الگ ہو جائیں گے۔اور خصوصاً آئر لینڈ اور کینیڈا کا نام لیا جاتا تھا کہ ان میں کثرت رومن کیتھلکوں کی ہے جو طلاق کو نہیں مانتے اگر ایسی شادی ہوئی تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔بادشاہ کا نقطہ نگاہ یہ تھا کہ جب ملک نے طلاق کو جائز قرار دے دیا ہے تو بادشاہ اور غیر بادشاہ میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے۔میں اگر اپنا جائز حق استعمال کرتا ہوں تو کسی کو اس پر ناراضگی کیوں ہو۔آخر میں اپنے اس فعل سے ملک کو کیا نقصان پہنچا تا ہوں۔وزراء کا جواب یہ تھا کہ شادی کے متعلق آپ کا اختیار ہے مگر ہم آپ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر آپ نے یہ شادی کی تو ملک کے دوٹکڑے ہو جائیں گے۔خود ہمارے ملک میں بھی گو قانونِ طلاق پاس ہو چکا ہے مگر پادری اسے صحیح تسلیم نہیں کرتے۔پس ملک میں بھی اور ملک کے باہر بھی فساد ہو جائے گا۔