انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 281

انوار العلوم جلد ۱۴ حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل متعلقہ واقعات پر باوجود علم کے خاموشی اختیار کی جاتی تھی حتی کہ وہ دن آ گیا جب بادشاہ نے ایک اہم مذہبی رسم ادا کرنے سے انکار کر دیا۔تب فورامسر سمپسن کے واقعات پر بشپ بریڈفورڈ کی طرف منسوب کر کے جرح شروع ہوگئی حالانکہ بشپ بریڈفورڈ مسز سمپسن کے واقعہ کی طرف اشارہ کرنے سے خود انکاری ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ میں نے تو یہی کہا تھا کہ بادشاہ مذہب کی طرف پوری طرح متوجہ نہیں اور مذہبی رسوم میں حصہ نہیں لیتے اور اس سے زیادہ میرا منشا نہ تھا۔بشپ کے اس انکار سے صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے درحقیقت اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا تھا جس کا میں اوپر ذکر آیا ہوں لیکن یا تو سکاٹ لینڈ کے اخبارات نے ان کے مضمون کو غلط سمجھا یا مصلحتا ان کے اشارہ کو نظر انداز کر کے ایک اور امر کی طرف منسوب کر دیا تا کہ اصل مسئلہ زیر بحث نہ آئے۔کیونکہ دنیا کے سامنے اس حقیقت کا اظہار کہ بادشاہ انگلستان بعض یا گل رسوم میسحیت پر یقین نہیں رکھتے ایک ایسی بات تھی جسے پادری مسیحیت کیلئے سخت مضر سمجھتے تھے اور اسے زیر بحث نہیں لانا چاہتے تھے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آرچ بشپ آف کنٹر بری نے اپنے بعد کے اعلان میں اشارہ بشپ آف بریڈ فورڈ کو تنبیہہ کی ہے کہ انہوں نے کیوں اس مسئلہ پر عام مجلس میں روشنی ڈالی اور شاہ ایڈورڈ ہشتم کی دست برداری کے بعد تو انہوں نے واضح الفاظ میں خود ہاؤس آف لارڈز میں کہہ دیا کہ وہ خوش ہیں کہ اب وہ نئے بادشاہ کی تاج پوشی میں ہلا ضمیر کشی کے شامل ہو سکیں گے۔جس کے صاف معنی ہیں کہ ان کے دل پر یہ گراں گزر رہا تھا که سابق بادشاہ نے تخت نشینی کے موقع پر ایک اہم مذہبی رسم کے ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ان حالات سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ مسز سمپسن کے تعلقات پر غصہ حقیقی نہ تھا کیونکہ وہ تعلقات بہت پرانے تھے اصل غصہ بعض لوگوں کو یہ تھا کہ بادشاہ نے ایک مذہبی رسم کو تاج پوشی کے متعلق کیوں منسوخ کر دیا ہے۔مسز سمپسن کا ذکر بعض اخبارات نے دیدہ دانستہ اس لئے چھیڑ دیا تا کہ مذہب کا سوال زیر بحث نہ آئے یا بشپ بریڈ فورڈ کی تقریر کو غلط سمجھ کر ایسا کیا اور چونکہ یہ مسئلہ بھی اہم تھا اس نے فوراً ایک اہمیت اختیار کر لی۔اس تمہید کے بعد میں کہتا ہوں کہ کیا سوال یہ تھا کہ بادشاہ ایک عورت کو قبول کریں یا بادشاہت کے فرائض کو۔یا یہ تھا کہ بادشاہ ایک ایسے اصل کو اختیار کریں جو بادشاہت سے بھی زیادہ تھا۔یا بادشاہت کو۔یقیناً سوال بادشاہت اور عورت کا نہ تھا بلکہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ سوال دو اصول کا تھا۔پادریوں اور ان کے ہمدردوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہو رہا تھا کہ