انوارالعلوم (جلد 14) — Page 278
انوار العلوم جلد ۱۴ حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل حیرت انگیز ہے کہ انہوں نے اس قسم کے مقصد کے پیش نظر اتنی بڑی امانت کو چھوڑ دیا۔کاش ! ''الفضل کا افتتاحیہ نگار آرچ بشپ آف کنٹر بری کے فقروں پر انحصار کرنے کی بجائے واقعات پر غور کرنے کی کوشش کرتا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچنے سے محفوظ رہتا جو اس نے اب نکالا ہے۔جو واقعات اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ:۔(۱) مسز سمپسن کی واقفیت شاہی خاندان سے نئی نہیں وہ شاہ جارج پنجم کے سامنے بھی پیش کی جاچکی ہیں اور اُسی وقت سے ان کی آمد درباری حلقوں میں ہے۔(۲) سابق شاہ ایڈورڈ ہشتم بھی ان سے آج ملنے نہیں لگے بلکہ مئی ۱۹۳۶ ء سے ان کے تعلقات مسرسمپسن سے نہایت گہرے تھے حتی کہ امریکن اخبارات میں مسز سمپسن کی طلاق کے وقوعہ سے پہلے یہ مضامین شائع ہو رہے تھے کہ اب مسز سمپسن طلاق لے لیں گی اور غالباً شاہ ایڈورڈ ہشتم سے شادی کریں گی۔وہ دیر سے شاہی دعوتوں میں بلائی جاتی تھیں جن میں خود وزیر اعظم بھی شامل ہوتے تھے ، وہ اکثر اوقات شاہی قلعہ میں رہتی تھیں اور شاہی موٹر ان کی خدمت پر مامور تھے۔ان سب واقعات کو انگلستان جانتا تھا، آرچ بشپ صاحب جانتے تھے، وزیر اعظم جانتے تھے مگر سب خاموش تھے۔سوال یہ ہے کہ کیوں؟ (۳) مسز سمپسن کو انگریزی عدالت میں طلاق ملی ، ان کی طلاق کے وقت پولیس کی خاص نگرانی کا انتظام کیا گیا، پریس کو فوٹو شائع کرنے سے روکا گیا۔ایک معمولی بروکر کی بیوی کی طلاق پر اس قدر احتیاطیں کیوں برتی گئیں۔اگر حکومت برطانیہ ان واقعات سے واقف نہ تھی جو شاہی قصر میں رونما ہو رہے تھے تو اسے مسز سمپسن کی طلاق پر اس قسم کی احتیاطیں کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی اور اس نے وہ احتیاطیں کیوں برتیں؟ کیا ایک ڈیوک (DUKE کی بیوی کی طلاق پر بھی انگلستان میں ایسی احتیاطیں برتی گئی ہیں۔کیا اس واقعہ کی موجودگی میں حکومت کا کوئی افسر کہہ سکتا ہے کہ اسے صرف امریکہ کے اخبارات سے یہ حالات معلوم ہوئے۔(۴) اگست میں بادشاہ سیر کیلئے جہاز پر گئے ، مسز سمپسن بغیر خاوند کے ساتھ تھیں، دنیا بھر کو معلوم تھا۔کیا اُس وقت کسی نے احتجاج کیا ؟ اول تو شائع شدہ واقعات سے ثابت نہیں کہ ایسا احتجاج ہوا ہو لیکن اگر کوئی احتجاج ہوا تھا تو وہ ایسا کمزور تھا کہ کسی کو کانوں کان معلوم نہیں