انوارالعلوم (جلد 14) — Page 277
انوار العلوم جلد ۱۴ حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ حکومت برطانیہ کا تازہ انقلاب اور الفضل ( تحریر فرموده ۲۰ دسمبر ۱۹۳۶ء) ۱۴۔دسمبر کے’الفضل میں ایک افتتاحیہ حکومت برطانیہ میں تازہ انقلاب“ کے نام سے چھپا ہے میں اس کے بارہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔گو جو کچھ الفضل“ میں شائع ہوتا ہے ضروری نہیں کہ میری نظروں سے گزرے نہ یہ ضروری ہے کہ اسے پڑھ کر اگر مجھے اختلاف ہو تو میں اس اختلاف کا اظہار کروں۔کیونکہ الفضل اجمالی طور پر جماعت احمدیہ کا ترجمان ہے نہ کر تفصیلی طور پر تفصیلی طور پر لوگوں میں اختلاف پایا جاتا ہے اور ضروری نہیں کہ ہر اختلاف پر گرفت کی جائے۔بعض باتوں کو ایسی اہمیت نہیں دی جاتی کہ علم ہو جانے پر بھی ان کی تردید کی جائے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس مقالہ کی تردید ضروری ہے کیونکہ اس میں بعض اصول کا سوال ہے۔و الفضل“ کے افتتاحیہ کا خلاصہ یہ ہے سابق بادشاہ ایڈورڈ ہشتم نے ایک عورت کی خاطر ملک کو چھوڑ کر کوئی قابلِ تعریف کام نہیں کیا۔ان کو مجبور اور قابلِ ہمدردی سمجھا جا سکتا ہے لیکن ایثار اور قربانی کرنے والا نہیں کیونکہ چھوٹی چیز بڑی چیز کیلئے قربان کی جاسکتی ہے نہ کہ بڑی چھوٹی کیلئے اور اس کی تائید میں ” الفضل نے آرچ بشپ آف کنٹر بری کے بعض فقروں کو ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔جو یہ ہیں۔ایڈورڈ ہشتم کو خدا کی طرف سے ایک اعلیٰ اور مقدس امانت ملی تھی مگر انہوں نے یہ امانت دوسروں کے حوالے کر دینے کیلئے اپنی مخصوص صاف بیانی سے کام لیا۔وہ ہر اقدام ذاتی خوشی کے حصول کیلئے کر رہے تھے۔یہ امر افسوسناک اور