انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 271

انوار العلوم جلد ۱۴ ایک رئیس سے مکالمہ کیلئے کوئی جگہ چھوڑی ہی نہیں۔۵ الله انبیاء اور ان کے متبعین کو دنیا سے محبت نہیں ہوتی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ فتح مکہ کے بعد کی ایک جنگ کے ختم ہونے پر آنحضرت ﷺ نے کچھ مال مکہ والوں میں تقسیم کیا تو ایک نو جوان انصاری نے اعتراض کیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال کے والوں کو بانٹ دیا گیا ہے۔اس پر رسول کریم ﷺ نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا۔مجھے ایک بات پہنچی ہے۔انصار بھی سمجھ گئے اور انہوں نے عرض کیا۔حضور ! وہ ایک نادان نوجوان نے بات کہی ہے ہم اس سے اپنی براءت کا اظہار کرتے ہیں۔ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔رسول کریم ﷺ صلى الله نے فرمایا۔بعض باتیں جب منہ سے نکل جاتی ہیں تو وہ اپنا نتیجہ پیدا کر کے رہتی ہیں۔تم یہ بات دو طرح کہہ سکتے تھے۔یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ جب مکہ والوں نے خدا کے رسول کو اپنے شہر سے نکال دیا اور اُس کے رہنے کیلئے کوئی جگہ نہ رہی تو ہم نے اسے پناہ دی اور اپنی جانیں اور اموال لٹا کر اور اپنی گردنیں کٹوا کر اس کی حفاظت کی اور اسے اپنے گھروں میں جگہ دی لیکن جب اموال آئے تو خدا کا رسول ہمیں بھول گیا اور اس نے مال اپنے مکے کے رشتے داروں میں بانٹ دیا اور ہماری کوئی پروا نہ کی۔لیکن اگر تم چاہتے تو یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ تمام انبیا ء ایک عظیم الشان نعمت کی خبر دیتے چلے آئے تھے وہ یہ کہتے چلے آئے تھے کہ ایک نبی آئے گا اور وہ نہایت بلند عظمت وشان رکھتا ہو گا اس نبی کو خدا نے مکہ میں پیدا کیا وہ وہاں رہا اور جب خدا تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر مکہ فتح کیا تو مکہ والوں نے چاہا کہ اپنے رسول کو اپنے شہر میں لے جائیں لیکن اس وقت خدا تعالیٰ نے مکہ والوں کو کہا۔تم اونٹ گھوڑے اور دیگر اموال لے جاؤ لیکن مدینہ والے خدا کا رسول اپنے گھروں کو لے جائیں۔یہ سُن کر انصار رو پڑے اور اپنی براءت کرنے لگے۔تب آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔بعض باتیں جب منہ سے نکل جاتی ہیں تو اپنا نتیجہ ضرور دکھایا کرتی ہیں۔اب خدا تعالیٰ نے اس کی سزا کے طور پر یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ اے انصار ! تم کو ان قربانیوں کے عوض دنیا میں قیامت تک سلطنت نہیں ملے گی۔ہاں ان کا بدلہ حوض کوثر پر تم کو دے دیا جائے گا۔چنانچہ دیکھ لو۔اسلام میں مغل، پٹھان حتی کہ حبشی بھی بادشاہ ہوئے اور تین سو سال تک حبشیوں نے بادشاہت کی۔اور اور بھی جو قو میں مسلمان ہوئیں اُن کو خدا تعالیٰ نے سلطنت بخشی لیکن انصار ۱۳ سو سال سے کسی حصہ دنیا کے بادشاہ نہیں ہوئے۔غرض بعض انبیاء کو بادشاہ بنایا گیا اور بعض غربت کی حالت میں ہی دنیا سے گذر گئے لیکن جو بادشاہ