انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 250

انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات ممبر بنیں تو ہمیں اس تحریک پر عمل کرنے میں کوئی عذرنہیں تو پھر اس روح کے ساتھ کام کرنا چاہئے جس روح کا تحریک جدید پر عمل کرتے وقت اختیار کرنا ضروری ہے۔اساتذہ کو بھی چاہئے اور انہیں بھی جولڑکوں کے نگران ہیں کہ متواتر ہفتہ میں ایک دو لیکچر ایسے دیا کریں جن میں تحریک جدید کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے اور مختلف رنگوں میں اس کی وضاحت کی جائے۔اسلام پر جو مصائب اِس وقت آئے ہوئے ہیں، سلسلہ کیلئے جن قربانیوں کی اِس وقت ضرورت ہے ، ان تمام باتوں کا ذکر کیا جائے اور پھر منافق جو اعتراض کرتے ہیں ان کا بھی ازالہ کیا جائے کیونکہ بچے کئی جگہ سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ان لیکچروں اور تقاریر کے سلسلہ کو جاری رکھا جائے یہاں تک کہ جب طلباء اپنی تعلیم سے فارغ ہو کر یہاں سے جائیں تو خواہ وہ مبلغ ہوں یا نہ ہوں تحریک جدید کو قائم رکھنے والے ہوں۔اب مجھے جو تحریک جدید کے متعلق مسلسل کئی خطبات کئی لیکچر اور کئی تقریریں کرنی پڑتی ہیں یہ دراصل اصول کے خلاف ہے۔سال کے خطبات میں سے ستر اسی فیصدی خطبات میرے ایسے ہی ہوتے ہیں جو تحریک جدید کے متعلق ہوتے ہیں اور یہ حالت اسی وجہ سے ہے کہ جماعت خود توجہ نہیں کرتی۔ورنہ اصل چیز تو یہ ہے کہ خلیفہ وقت جو نبی ایک بات کہے جماعت فوراً اس پر عمل کرنا شروع کر دے۔پس تحریک جدید کے متعلق مجھے خطبات کہنے کی اس لئے ضرورت پیش آتی رہتی ہے کہ میں چاہتا ہوں اس تحریک کو جاری کرنے اور اس کو قائم رکھنے میں دوست میرے نائب بنیں اور وہ دنیا کے خواہ کسی حصہ میں رہتے ہوں اس تحریک کو زندہ اور قائم کرتے چلے جائیں۔جس وقت ہماری جماعت میں اس قسم کے لوگ پیدا ہو گئے وہ دن ہماری کامیابی کا دن ہوگا۔اور اگر ہم پورے زور سے اس تحریک کی اہمیت، اس کے مقاصد اور اس کی اغراض لوگوں کے ذہن نشین کرتے چلے جائیں تو آج جو ہمارے سامنے بچے بیٹھے ہوئے ہیں انہی کے دلوں میں کل تحریک جدید کے متعلق اس قدر جوش اور اتنا ولولہ ہو گا کہ انہیں چین اور آرام نہ آئے گا جب تک کہ وہ اپنے دوستوں، اپنے رشتہ داروں اور اپنے ہمسایوں کو بھی اس تحریک کا قائل نہ کر لیں۔اور وہی دن ہوگا جو احمدیت کی فتح کیلئے قومی اور اجتماعی جد وجہد کا دن ہوگا۔اس وقت تک ہماری جد و جہد ایسی ہے جیسے اگے دُگے آدمی کی جد وجہد ہوتی ہے۔قومی جد وجہد ہم اسے نہیں کہہ سکتے۔قومی جد وجہد ہماری اُس وقت شروع ہو گی جب تحریک جدید کے ماتحت