انوارالعلوم (جلد 14) — Page 233
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم اہم ہدایات ہوں جو سو میں سے بمشکل دو کے ہوتے ہیں جس چیز کی امریکہ یا انگلینڈ جانے والا مبلغ قربانی کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ وہاں کے مذاق کا مقابلہ کر کے اسلامی تعلیم کو ان لوگوں میں قائم کرے۔اگر وہ ایسا کرے تو میں تسلیم کرتا ہوں کہ وہ قربانی کرتا ہے اور اگر وہ نہیں کرتا تو اُس کی قربانی کا دعویٰ محض جھوٹ اور محض فریب ہے۔وہ ہمارے ملک کے مکانوں سے بہتر مکانوں میں رہتا ہے، وہ ہمارے ملک کی ریلوں سے بہتر ریلوں میں سفر کرتا ہے، وہ ہمارے ملک کی سوسائٹی سے بہتر سوسائٹی بلکہ دنیوی نقطہ نگاہ سے زیادہ روشن خیال لوگوں میں رہتا ہے، ان حالات میں کونسی قربانی ہے جو وہ کر رہا ہے۔پس ہمارے ان مبلغین کو بھی جو انگلستان میں موجود ہیں یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ انگلستان اور امریکہ میں اگر کوئی قربانی ہے تو یہ کہ اسلامی تعلیم پر وہاں کے تمسخر کو برداشت کیا جائے اور اسلامی اصول پر مضبوطی سے اپنے آپ کو قائم رکھا جائے اگر کوئی شخص ان کے تمسخر کو برداشت نہ کرتے ہوئے اسلامی اصول پر قائم نہیں رہتا تو ہر گز وہ کسی قسم کی قربانی نہیں کرتا۔لیکن ایک مبلغ کی بے شک یہ قربانی ہوگی اگر وہ کسی مجلس میں جاتا ہے اور اُس مجلس میں عورتیں آتی ہیں مگر وہ اُن سے مصافحہ نہیں کرتا۔عورتیں اُس پر ہنستی ہیں اور کہتی ہیں اولڈ فیشن ، گدھا ایشیائی ، بیوقوف ہندوستانی مگر وہ ان تمام باتوں کو سنتا ہے اور کہتا ہے بے شک مجھ پر ہنس لومگر میرا مذہب مجھے یہی کہتا ہے کہ عورتوں سے مصافحہ نہ کرو۔اسی طرح اگر کسی مجلس میں اُس سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا اسلام میں ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کرنا جائز ہے اور وہ بجائے اس رنگ میں جواب دینے کے کہ اصل میں اس کی بعض وجوہ ہیں یہ جواب دیتا ہے کہ بے شک اسلام کا یہ مسئلہ ہے اور تم اگر آج ان باتوں کو نہیں مانتے تو تمہیں گل اِن باتوں کو ماننا پڑے گا اور لوگ اس پر ہنسی کرتے اور اُس کی باتوں پر تمسخر اڑاتے ہیں کہتے ہیں کیا عورتوں کے جذبات نہیں ہوتے ، کیا عورتوں میں قدرت نے احساسات نہیں رکھے؟ یہ کس قسم کی تعلیم ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔مگر وہ اس تمام تمسخر کو برداشت کرتے ہوئے کہہ دے کہ خواہ تم کچھ کہوٹھیک بات وہی ہے جو اسلام نے پیش کی تو بے شک وہ قربانی کرتا ہے۔اسی طرح اگر کسی موقع پر شود اگر کا مسئلہ آ جاتا ہے اور وہ دلیری سے اسلام کی تعلیم پر قائم رہتا ہے اور باوجود ہر قسم کے اعتراضات کے اُن کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا تو بے شک ہم کہیں گے وہ قربانی کرتا ہے۔اسی طرح ورثہ کا مسئلہ ہے ، انشورنس کا مسئلہ ہے، اسلامی طریق حکومت کا مسئلہ ہے اور اور ہزاروں ایسے مسائل ہیں خصوصاً وہ مسائل جو عملی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جیسے پردہ ہے یا تعد دازدواج