انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 218

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔ہمارا خدا کہتا ہے کہ تم عقیدت کے دو آنسو ان پر بہا دو وہ زندہ ہو جائیں گے مگر ہمیں اتنی بھی توفیق نہیں ملتی کہ ہم دو آنسو بہا سکیں اور پھر ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں ، پھر ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔اگر اسلام اور قرآن کی موت پر ہمارے دو آنسو بھی عقیدت کی نذر نہیں بن سکتے تو اسلام اور قرآن سے ہماری محبت کا دعوی کہاں تک جائز ہوسکتا ہے۔پس میں اپنی جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔تم باتیں کرتے ہو مگر کام نہیں کرتے یہاں مجالس شورای ہوتی ہیں ، دھڑنے سے تقریریں کی جاتی ہیں، لوگ رو بھی پڑتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کلیجہ باہر آنے لگا ہے مگر جب یہاں سے جاتے ہیں تو سست ہو جاتے ہیں۔لوگ چندے لکھواتے ہیں مگر دینے کیلئے نہیں بلکہ لوگوں میں نام پیدا کرنے کیلئے۔وہ کہتے ہیں ہم احمدیت کیلئے ہر چیز قربان کرنے کیلئے تیار ہیں مگر قربانی کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ان کی مثال بالکل ہندوؤں کی لڑائی کی سی ہوتی ہے۔ایک کہتا ہے پنسیر ی ماروں گا اور دوسرا کہتا ہے مار پنسیری تو پہلا شخص دو قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے۔کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ہم فیصلہ کر لیں کہ ہم اسلام اور احمدیت کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں گے اور پھر کوئی بڑے سے بڑا دشمن بھی ہم پر غالب آ سکے۔بچہ کو اس کی ماں بعض دفعہ اُٹھاتی اور اچھالتی ہوئی کہتی !بیٹا تجھے نیچے پھینک دوں۔جب تک بچہ ڈرتا ہے ماں اس کا مذاق اُڑاتی رہتی ہے اور کہتی ہے تجھے ابھی نیچے پھینکتی ہوں۔مگر جب بچہ کہتا ہے پھینک دو۔تو کیا تم سمجھتے ہو کوئی سنگدل سے سنگدل ماں بھی اس فقرہ کو سن کر بے تاب ہوئے بغیر رہ سکتی ہے۔کیا بچہ جس وقت کہتا ہے ماں مجھے بے شک پھینک دو۔اُس وقت ایک سنگدل سے سنگدل ماں کا دل بھی خون نہیں ہو جاتا، کیا اس کے آنسو نہیں بہہ پڑتے اور کیا وہ اس کا منہ چوم کر اسے چھاتی سے نہیں لگا لیتی اور کیا وہ اسے بھینچ کر نہیں کہتی میری جان! تجھ پر قربان میں تجھے کب گرا سکتی ہوں۔پھر کیا تم سمجھتے ہو ہمارا خدا ماں سے کم رحم دل ہے۔وہ بھی ہمارے ایمان اور ہمارے اخلاص کا امتحان لیتا ہے اور کہتا ہے میں تمہیں نیچے گراتا ہوں۔جب تک ہم کہتے ہیں ہم کو قربان نہ کرو، ہمیں نیچے نہ گراؤ، وہ اور زیادہ زور سے ہمیں ڈراتا ہے۔مگر جب ہم کہہ دیتے ہیں ہمیں اس میں کیا عذر ہے اور یہ کیا قربانی ہے، ہم تو اس سے بھی بڑی قربانیاں کرنے کیلئے تیار ہیں۔وہ ماں سے زیادہ زور سے ہمیں بھینچتا ، اپنے ساتھ ہمیں چمٹاتا اور پیار کرتا ہے اور ہم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہو جاتے ہیں۔اور جب ہم اس کے قریب ہو جا ئیں تو موت