انوارالعلوم (جلد 14) — Page 219
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔کی کیا طاقت ہے کہ خدا کی گود میں ہاتھ ڈال سکے۔ایسے انسان کو خدا اپنی گودی میں لے لیتا ، اسے پیار کرتا اور اسے اپنے قریب کر لیتا ہے۔ہماری مصیبتوں اور ابتلاؤں کا اس وقت بڑھنا بتا تا ہے کہ در حقیقت ہم حقیقی موت کیلئے ابھی تیار نہیں ہوئے۔جس طرح ماں اپنے بچہ کو چھیڑتی ہے اور کہتی ہے میں تجھے نیچے گراؤں اور وہ کہتا ہے نہ گراؤ۔تو چونکہ وہ اپنی ماں پر بدظنی کرتا ہے، اس لئے وہ اور زیادہ اُسے چڑاتی ہے۔مگر جب بچہ کہدیتا ہے بے شک مجھے پھینک دوتب وہ اپنے بچہ کو پھینکا نہیں کرتی بلکہ اسے گلے سے چمٹا لیتی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی یہ دیکھتا ہے کہ ہم پھینکے جانے اور اس کیلئے موت قبول کرنے کو تیار ہیں یا نہیں۔جس دن ہمارے دل کی گہرائیوں سے یہ آواز اُٹھی کہ اے خدا! ایک ہلاکت کیا ہم تیرے لئے ہزار ہلاکتوں کو بھی اپنے نفس پر وارد کرنے کیلئے تیار ہیں۔اور ایک موت کیا ہم تیرے دین کیلئے ہزار موتیں بھی قبول کرنے کو تیار ہیں کیونکہ قربانی ہمارے لئے عزت کا مقام ہے اس دن خدا تعالیٰ کی محبت میں اس زور سے جوش پیدا ہوگا اور اس کی اُلفت کے سمندر میں ایسا طوفان آئے گا کہ وہ خس و خاشاک کی طرح ہمارے مخالفوں کو بہا دے گا اور وہ دشمن کے بیٹڑے جو ہماری تباہی کیلئے آ رہے ہیں ، انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔مگر ہمیں بھی تو محبت کا کوئی جذبہ دکھانا چاہئے۔کیا خدا تعالیٰ نے اپنی محبت کا ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شکل میں ہماری طرف نہیں بڑھایا۔مگر ہم نے اس ہاتھ کی کیا قدر کی۔کیا ہمارے اندر اس ہاتھ کو دیکھ کر وہی جوش اور وہی محبت پیدا ہوئی جو اس قسم کے احسان اور سلوک کے نتیجہ میں پیدا ہونی چاہئے۔ہم نے تو اس احسان کی طرف ایسی ہی توجہ کی جیسے انسان قوسِ قزح کا نشان آسمان پر دیکھتا ہے تو تھوڑی دیر کیلئے کہدیتا ہے۔واہ واہ کیا اچھا نشان ہے۔اور یہ کہہ کر پھر اپنے کام میں مشغول ہو جاتا ہے اور اسے خیال بھی نہیں آتا کہ آسمان پر قوس قزح ہے۔بے شک ہم میں مخلص بھی ہیں۔وہ بھی ہیں جو اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی عزت اور اپنی آبرو ہر وقت قربان کرنے کیلئے تیار ہیں مگر اُن کی تعداد کتنی ہے؟ عام لوگوں کو تو ان سادہ لوح ان پڑھ مخلصوں پر رشک کرنا چاہئے جو گو علم ظاہر سے محروم تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو علم باطن دیا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی زندگی کے آخری ایام میں آخری جلسہ سالانہ پر سیر کیلئے باہر نکلے تو جس وقت آپ اس بڑ کے درخت کے قریب پہنچے جو آجکل ریتی چھلہ کے درمیان میں ہے تو ہجوم کی زیادتی کی وجہ سے سیر کیلئے جانا آپ کیلئے مشکل ہو گیا اور اسی جگہ ٹھہر