انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 157

انوارالعلوم جلد ۱۴ منتظمین جلسہ سالانہ کو ہدایات کریں۔میں متواتر دس بارہ سال سے کہتا چلا آ رہا ہوں کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی آواز میں اونچی ہونی چاہئیں اور اگر وہ کوشش کریں تو ان کی آواز میں اونچی ہوسکتی ہیں۔فوجوں میں اونچی آواز کرنے کی مشق کرائی جاتی ہے۔پچاس گز سے شروع کر کے کئی گز تک لے جاتے اور بلند آواز سے بولنا سکھاتے ہیں۔سکھوں کو دیکھ لو وہ ست سری اکال کا نعرہ لگانے کے چونکہ عرصہ سے عادی ہیں اس لئے ان کا سو ڈیڑھ سو آدمی بھی جب ست سری اکال کا نعرہ لگا تا ہے تو ہمارے جلسہ سالانہ کے ہزاروں احمدیوں کے نعرہ تکبیر سے ان کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔حدیثوں سے نعرہ تکبیر کا پتہ ملتا ہے۔چنانچہ احزاب کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نعرہ لگایا اور باقی صحابہ نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا۔سے بہر حال نعرہ تکبیر کا احادیث سے نشان ملتا ہے اور یہ نعرہ لگانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اسے جائز حدود کے اندر رکھا جائے۔پھر عیدوں کے متعلق بھی آتا ہے کہ اس موقع پر ایک دوسرے کو دیکھ کر صحابہ بلند آواز سے تکبیر و تسبیح کہتے ہے پس نعرہ تکبیر جائز ہے لیکن ہمارے ہاں جو نعرے لگائے جاتے ہیں انہیں سن کر طبیعت میں ایک انقباض پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارا نعرہ تکبیر ہمارے جسموں کی کمزوری اور ہمارے دماغوں کی کمزوری پر دلالت کرتا ہے اور بعض لوگ تو جب نعرہ لگاتے ہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ رو پڑے ہیں۔اس وقت جو یہاں نعرہ لگایا گیا ہے چونکہ اس کے لگانے میں زیادہ تر طالبعلم شامل ہیں ، اس لئے اس کی آواز بھی اونچی تھی لیکن اگر آواز اور زیادہ اونچی کرنے کی کوشش کی جائے تو اپنی تعداد کی نسبت سے کئی گنے زیادہ نعرہ کی آواز بلند پیدا کی جاسکتی ہے۔پس آواز میں اونچی کی جاسکتی ہیں اگر آوازوں کے اونچا کرنے کی طرف توجہ کی جائے۔میں نے ہمیشہ مدرسوں کے افسروں کو اس طرف توجہ دلائی ہے اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں۔زنانہ مدرسہ کے جو افسر ہیں انہیں بھی یاد رکھنا چاہئے کہ لڑکیوں کی آوازوں کو بلند کرنے کی کوشش کریں۔ہماری لڑکیوں کی آوازیں بہت دھیمی ہوتی ہیں۔جس کی وجہ سے عورتیں ان کی تقریر کو نہیں سن سکتیں اور اس وجہ سے شور پڑ جاتا ہے اور یا پھر اس کے ازالہ کا یہ طریق ہے کہ آلہ نشر الصوت لگا دیا جائے۔اس سے ان لڑکیوں کی آواز میں بھی تمام عورتوں تک پہنچ جائیں گی جو بہت دھیمی بولتی ہیں۔لیکن مقدم بات یہ ہے کہ عورتوں کا پروگرام کسی معقول اصل پر ہونا چاہئے۔لڑکیوں کو وقت اتنا دیا جائے جتنا وہ بولنا چاہتی ہوں۔اور اُن لڑکیوں کو وقت دیا جائے جو بول سکتی ہوں۔پھر لڑکیوں اور عورتوں کی آواز میں اونچی کرنے کی طرف توجہ کی جائے۔