انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 116

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت آسانی سے اسے چھوڑنے کیلئے تیار ہو جائے گی۔اگر یہ مشق میں اب نہ کراؤں تو جب جماعت پرفتن آئیں گے اُس وقت اسے سخت مشکلات پیش آئیں گی اور فوری طور پر وطنوں کی قربانی کرنا اس کیلئے مشکل ہو گا۔اسی لئے میں نے کہا ہے کہ نو جوان اپنے گھروں سے نکلیں اور غیر ملکوں میں پھیل جائیں۔لیکن چونکہ ابھی ہمارے ملک والوں کو غیر ممالک میں جانے کی عادت نہیں ، اس لئے لوگ اس سے تکلیف محسوس کرتے ہیں حالانکہ ہم معمولی گزارہ بھی دیتے ہیں اور معمولی ابتدائی اخراجات بھی برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں۔لیکن اتنی سہولتوں کے با وجود تعلیم یافتہ لوگ تو جانے کیلئے تیار ہو جائیں گے لیکن باقی پھر بھی مختلف قسم کے عذرات کرنے لگ جائیں گے۔اس کے مقابلہ میں اہلِ عرب کی یہ حالت ہے کہ تم کسی عرب کو ذرا سی امداد کا بھی یقین دلا ؤ تو وہ ہندوستان ، چین، جاپان ہر جگہ جانے کیلئے تیار ہو جائے گا اور کبھی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ اس کے عزیزوں کا کیا حال ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ عرب میں ہر گاؤں بلکہ ہر گھر میں ایسے لوگ ملتے ہیں جو سیر و سیاحت کیلئے چین چلے گئے یا جاپان کو نکل گئے یا ہندوستان آگئے۔اس وجہ سے باہر نکلنے پر وہ ذرا بھی تکلیف محسوس نہیں کرتے۔اسی طرح انگریزوں کو دیکھ لو، وہ ہمیں بیس سال اپنے ملک سے باہر رہیں گے اور کچھ بھی پروا نہیں کریں گے۔اس کے مقابلہ میں ہماری یہ حالت ہے کہ ہم ایک مبلغ کو تین سال کیلئے باہر بھیجتے ہیں تو اس کی بیوی کے روتے روتے آنکھوں میں گرے پڑ جاتے ہیں۔ماں گبڑی ہو جاتی ہے اور گو وہ مبلغ شرم کے مارے کچھ نہیں لکھتا مگر اس کے دوست جو اس سے ملنے والے ہوں بیان کرتے ہیں کہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر وہ بھی روتا رہتا ہے۔یہ نقص اس وجہ سے ہے کہ ہماری جماعت کے افراد کو باہر نکلنے کی عادت نہیں۔اگر عادت ہو جائے تو غیر ملکوں میں جانا انہیں کچھ بھی دو بھر محسوس نہ ہو۔اور ضلع جالندھر کا ایک گاؤں ہے جس میں راول رہتے ہیں ان کے آدمی ہمیشہ تجارت کیلئے باہر رہتے ہیں اور اس وجہ سے انہیں احساس ہی نہیں کہ غیر ملکوں میں جا نا بھی کوئی تکلیف کا کام ہے۔بلکہ انہیں دیکھ دیکھ کر وہاں کے کئی راجپوت مجھے لکھتے رہتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے پاسپورٹ کا انتظام ہو جائے تو ہم بھی باہر جانا چاہتے ہیں۔اور جب وجہ دریافت کی جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ راول غیر ملکوں سے خوب کما کر لاتے ہیں ، ہم بھی چاہتے ہیں کہ باہر نکلیں اور کمائیں۔پس اگر ہماری جماعت کے افراد میں اس تحریک کے نتیجہ میں باہر جانے کی عادت ہو جائے گی تو انہیں وطن کی قربانی کا کچھ بھی احساس نہیں رہے گا۔