انوارالعلوم (جلد 14) — Page 117
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت اسی طرح مثلاً ایک کھانا کھانے یا سادہ لباس پہننے میں یہ بھی حکمت ہے کہ جب مشکلات کا وقت آئے تو نہ کھانے کی روک ہماری جماعت کی راہ میں حائل ہو اور نہ لباس کی روک تکلیف میں مبتلا کر سکے۔بلکہ وہ خیال کریں کہ اگر ہمیں وطن چھوڑنا پڑا ہے تو ہم پہلے بھی وطن چھوڑ نے کے عادی ہیں اور اگر کھانے یا لباس میں دقتیں حائل ہیں تو ہم پہلے ہی تھوڑا کھانے اور سادہ لباس پہننے کے عادی ہیں۔پس وہ خوشی اور دلیری سے مشکلات کا مقابلہ کریں گے اور اپنے دل میں گھبراہٹ اور تکلیف محسوس نہیں کریں گے۔تحریک جدید سے پانچواں امر میرے یہ مدنظر ہے کہ میں چاہتا ہوں ہمارا جو تبلیغی پروگرام ہے، اسے قریب ترین زمانہ میں انتہائی بعید علاقوں میں پہنچا دیا جائے۔میرے نزدیک جب خدا تعالیٰ کا مامور دنیا میں آئے تو اس کے قریب کے زمانہ والوں کو ضرور ایسی برکات ملتی ہیں جو بعد میں آنے والوں کو نہیں ملتیں۔اپنی جماعت کے لوگوں کو میں نے دیکھا ہے، وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں کتنی بڑی دولت دی۔وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شناخت کی توفیق دی۔اور انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ہیں یا تابعی۔اور صحابی اور تابعی کا درجہ اتنا بلند اور عظیم الشان ہے کہ دنیا میں اس کا اندازہ ہو ہی نہیں سکتا۔ہزار ہافتم کی غلطیاں ہیں جو بعد میں پیدا ہو جاتی ہیں اور بیسیوں ہلاکتیں ہیں جن میں بعد میں آنے والے مبتلا ہو جاتے ہیں۔جنگِ جرمن وفرانس میں ایک دفعہ اس بات کا تجربہ کیا گیا کہ کس طرح بات دور پہنچتے ہوئے تبدیل ہو جاتی ہے۔تمام سپاہیوں کو ایک لائن میں کھڑا کیا گیا۔اور ایک سپاہی کو حکم دیا گیا کہ تم یہ کہو شہزادہ ویلز آتے ہیں۔اس نے یہ بات کہی اور باقی سپاہیوں میں سے ہر ایک نے اس فقرہ کو دُہرانا شروع کیا لیکن جب آخری سپاہی نے وہ فقرہ دُہرایا تو فقرہ کی شکل بدلتے بدلتے اب یہ رہ گئی تھی۔” مجھے دو آنے دو“۔اسی طرح جو پیغام اللہ تعالیٰ کے انبیاء دنیا میں لایا کرتے ہیں ، زمانہ کے بعد کی وجہ سے اس کی شکل میں بہت بڑی تبدیلی ہو جاتی ہے۔اب اس قرآن کے مقابلہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش کیا ، اس قرآن کو رکھ کر جو غیر احمدی پیش کیا کرتے ہیں دیکھو کہ کیا غیر احمدیوں کے ہاتھ میں قرآن نے آ کر اسی طرح اپنی شکل تبدیل نہیں کر لی جس طرح فرانس کے میدان میں سپاہیوں میں شہزادہ ویلز آتے ہیں“ کا فقرہ بدلتے بدلتے یہ