انوارالعلوم (جلد 14) — Page 100
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت رکھو۔غرض جہاں بھی پانچ سو یا ہزار آدمی مباہلہ کیلئے آئے گا یہ احتیاطیں کرنی پڑیں گی ورنہ مباہلہ کھیل بن جائے گا۔یہ سب تفصیلات اور شرائط میں اگر خطبہ میں بیان کرتا تو اس قسم کا مضمون کئی خطبوں میں ختم ہوتا اور پھر بھی احرار کی طرف سے تحریری رضا مندی اور شرائط کے تسلیم کرنے کا امر باقی رہتا اس لئے میں نے کچھ باتیں تو خطبوں میں بیان کر دیں اور کچھ باتوں کے متعلق کہہ دیا کہ فریقین کے نمائندے جمع ہو کر ان کا فیصلہ کر لیں۔مگر انہوں نے اس طرف کا رُخ بھی نہیں کیا اور شرائط کے متعلق لکھ دیا کہ ہمیں سب منظور ہیں حالانکہ ابھی صرف چند شرطیں پیش کی گئی تھیں اور بہت سی شرائط طے کرنی باقی تھیں جو اسی صورت میں طے ہو سکتی تھیں کہ وہ اس کیلئے تیار ہوتے۔مگر انہوں نے شرائط کے متعلق ہمیں اپنی کوئی تحریر نہیں دی۔متواتر انہیں توجہ دلائی گئی کہ جو کچھ وہ تسلیم کرتے ہیں اور جن شرائط کو وہ مانتے ہیں، انہیں تحریری رنگ میں ہمارے پاس پہنچا دیں۔مگر انہوں نے یہ بات نہ مانی اور اخبار میں یہ اعلان ہوتا رہا کہ ہم سب شرائط منظور کرتے ہیں۔حالانکہ اپنے اخبار میں شائع محمدہ بات کو وہ آسانی سے رڈ کر سکتے اور کہہ سکتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری ہم پہ نہیں اخبار پر ہے۔چنانچہ اس کا ایک تازہ ثبوت خدا تعالیٰ نے مہیا کر دیا ہے۔اخبار مجاہد ۱۱۔دسمبر ۱۹۳۵ء میں ایک لیڈنگ آرٹیکل جزیرۃ العرب میں کیا ہو رہا ہے ؟‘ کے زیر عنوان چھپا ہے۔اس میں بعض ایسی باتیں ان کی طرف سے لکھی گئیں جو مسلمانوں کو سخت ناگوارگزریں۔اس کے شائع ہونے کے بعد جب انہیں محسوس ہوا کہ اس کا شائع کرناغلطی تھا تو جھٹ انہوں نے دوسرے دن اعلان کر دیا کہ یہ لیڈر نہیں تھا بلکہ دفتر مجاہد کے عملہ کے سوا کسی اور صاحب کا مضمون آیا اور نائب ایڈیٹر نے غلطی سے یہ سمجھا کہ یہ مضمون ادارہ تحریر کے رکن اعلیٰ نے منظور کر لیا ہے اور اس طرح بعض ارکانِ ادارہ تحریر کی غلطی سے شائع ہو گیا۔جن لوگوں نے اخبار کا ایک لیڈر کا لیڈر اُڑا دیا اور اسے اپنی طرف منسوب کرنے کی بجائے کسی نامہ نگار کی طرف منسوب کر دیا، اُن سے بھلا کیونکر امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے اخباری بیانات کو وقعت دیں اور وقت پر یہ کہہ کر انکار نہ کر دیں کہ یہ ہمارا بیان نہیں اور نہ ہم اس سے متفق ہیں۔اب تک تو ہم یہ سنتے چلے آئے تھے کہ غلطی سے لفظ کچھ کا کچھ چھپ سکتا ہے مگر یہ کبھی نہیں سنا تھا کہ ایک لیڈر کے لیڈر کے متعلق یہ کہ دیا جائے کہ وہ غلطی سے چھپ گیا اصل میں اسے چھپنا نہیں چاہئے تھا۔یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص اپنے نام پر ایک۔