انوارالعلوم (جلد 14) — Page 53
انوار العلوم جلد ۱۴ کیا احرار واقع میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں؟ نہیں۔اور اگر یہاں مباہلہ کر نیکی کوئی غرض ہو بھی تو مباہلہ والوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو جمع کرنے کی کوئی وجہ نہیں اور ان کا اصرار کرنا کہ یا تو ہم مباہلہ قادیان میں کریں گے ورنہ نہیں کریں گے ایک ایسی بات ہے جس کی نسبت ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ وہ بالکل غیر ضروری اور نا معقول ہے۔اب میں مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کے اُس جواب کو لیتا ہوں جو انہوں نے حکومت کو بھجوایا اور اخبارات میں شائع کرایا ہے۔آپ اس میں لکھتے ہیں۔آپ کی پیٹھی نمبر ۳۴۷ ایس۔ایس۔بی مؤرخہ ۲۔جولائی ۱۹۳۵ء کو (متن میں ) گورنمنٹ کا جو فیصلہ درج کیا گیا تھا اس کے مطابق مجوزہ سالانہ تبلیغ کا نفرنس ترک کر دی گئی تھی۔مرزا محمود احمد نے اس پر مجلس احرار کو چیلنج دینا شروع کر دیا کہ وہ مباہلہ کے لئے رضا مند ہے اور انہوں نے مجلس کے لیڈروں کو اپنے معتقدوں کے ہمراہ قادیان آنے اور ان کا مہمان بننے کے لئے اخبار الفضل مطبوعہ ۶ - اکتوبر ۱۹۳۵ء میں دعوت دی تھی اس لئے مجلس کو مجبوراً یہ چیلنج قبول کرنا پڑا۔“ ( بندے ماترم ۲۰۔نومبر ۱۹۳۵ء) اس پیٹھی سے مسٹر مظہر علی صاحب نے چیف سیکرٹری صاحب گورنمنٹ پنجاب پر اور اس کو شائع کر کے عوام الناس پر یہ اثر ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ:۔(1) احرار نے چونکہ قادیان میں کانفرنس ملتوی کر دی تھی، اس وجہ سے امام جماعت احمد یہ نے انہیں چیلنج دینا شروع کر دیا۔یعنی ان کی اس مجبوری سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر انہیں لوگوں میں ذلیل کرنا چاہا۔(۲) احرار قادیان آنے کا ارادہ ترک کر چکے تھے مگر چونکہ امام جماعت احمدیہ نے انہیں قادیان آنے کا چیلنج دیا وہ اس چیلنج کو قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔اللہ تعالیٰ احرار پر رحم کرے کہ وہ اسلام کو اس طرح بدنام نہ کریں کیونکہ یہ دونوں باتیں صریح جھوٹ ہیں۔یہ بات بالکل غلط ہے کہ چونکہ احرار کو قادیان میں کانفرنس کرنے سے روک دیا گیا تھا اس لئے میں نے احرار کو مباہلہ کا چیلنج دینا شروع کر دیا۔میرا مباہلہ کا چینج لاہور یا گورداسپور کے لئے تھا۔اگر میں نے اس ممانعت سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کے لئے چیلنج دیا ہوتا تو میں قادیان آنے کا چیلنج دیتا نہ کہ لاہور یا گورداسپور کا۔دوسری بات بھی یعنی یہ کہ احرار نے قادیان آنے کا ارداہ ترک کر دیا تھا مگر جب میں نے ان کو چیلنج دیا کہ وہ قادیان آ کر مباہلہ کریں تو مجبوراً انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا ویسی ہی جھوٹ ہے جیسی کہ پہلی بات۔انہوں نے ہرگز میرے چیلنج پر مجبور ہو کر