انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 32

مجلس نا ں احرار کا مباہلہ کے متعلق ناپسندیدہ رویہ انوار العلوم جلد ۱۴ اے خدا! میں نے یہ اعلان سچے دل سے اور نیک نیتی سے کیا ہے تو پھر اے میرے رب ! یہ جھوٹ جو بانی سلسلہ احمدیہ کی نسبت ، میری نسبت اور سب جماعت احمدیہ کی نسبت بولا جاتا ہے ، تو اس کے ازالہ کی خود ہی کوئی تدبیر کر اور اس ذلیل دشمن کو جو ایسا گندہ الزام ہم پر لگاتا ہے یا تو ہدایت دے یا پھر اسے ایسی سزا دے کہ وہ دوسروں کے لئے عبرت کا موجب ہو۔اور جماعت احمدیہ کو اس تکلیف کے بدلہ میں جو صرف سچائی کو قبول کرنے کی وجہ سے دی جاتی ہے عزت، کامیابی اور غیر معمولی نصرت عطا کر کہ تو اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ہے اور مظلوموں کی فریاد کو سننے والا ہے۔اللَّهُمَّ (مِینَ۔اے سننے والوسنو! کہ میں نے اپنی طرف سے قسم کھالی ہے اور قسم کھا کر اس عقیدہ کا اعلان کر دیا جس پر میں اول دن سے قائم ہوں۔اب احرار یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں مباہلہ سے گریز کرتا ہوں۔میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ مباہلہ ہو یا نہ ہو اللہ تعالیٰ کی نصرت اس میری قسم کی وجہ سے جماعت احمدیہ کو نصیب ہوگی اور پیش آمدہ ابتلاؤں یا آئندہ آنے والے ابتلاؤں سے ان کو نقصان نہ پہنچے گا بلکہ انہیں زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل ہو گی۔بے شک ابتلا ء خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتوں کے لئے ضروری ہیں مگر اصل کے نتیجہ ہے جو ہمیشہ ان کے حق میں اچھا اور ان کے دشمن کے حق میں بُرا ہوتا ہے۔اور اب بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ سے یہی سلوک ہوگا۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الفضل ۳ ستمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۶ کالم۲ در همین فارسی صفحه ۸۹ شائع کرده نظارت اشاعت ربوه والسلام خاکسار میرزا محمود احمد امام جماعت احمد یہ قادیان ۳۰ اکتوبر ۱۹۳۵ء (الفضل ۲۔نومبر ۱۹۳۵ء)