انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 31

سِ احرار کا مباہلہ کے متعلق ناپسندیدہ رویہ انوار العلوم جلد ۱۴ انتظار کئے بغیر میں اُس خدائے قہار و جبار ، مالک و مختار ، معز ومدن ، نجی اور میت کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میرا اور سب جماعت احمدیہ کا بحیثیت جماعت یہ عقیدہ ہے اور اگر کوئی دوسرا شخص اس کے خلاف کہتا ہے تو وہ مردود ہے اور ہم میں سے نہیں ) کہ رسول کریم له فضل الرسل اور سید ولد آدم تھے۔یہی تعلیم ہمیں بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام نے دی ہے اور اسی پر ہم قائم ہیں۔رسول کریم ﷺ کی امت اپنے آپ کو جانتے ہیں اور سب عزتوں سے زیادہ اس عزت کو سمجھتے ہیں۔بے شک ہم بانی سلسلہ احمدیہ کوخدا كاماً مور اور مُرسل اور دنیا کے لئے بادی سمجھتے ہیں لیکن ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ آپ کو جو کچھ ملا وہ رسول کریم ﷺ کے طفیل اور آپ کی شاگردی سے ملا تھا۔اور آپ کی بعثت کا مقصد صرف اسلام کی اشاعت اور قرآن کریم کی عظمت کا قیام اور رسول کریم ﷺ کے فیضان کو جاری کرنا تھا اور جیسا کہ آپ نے خود فرمایا ہے۔ایں چشمہ رواں کہ بخلق خدا دہم یک قطره ز بحر کمال محمد است این آتشم ز آتش مهر محمدی است وایں آب من ز آب زلال محمد است ۱۲ آپ جو نور دنیا میں پھیلاتے تھے وہ رسول کریم ﷺ کے نور کا ایک شعلہ تھا اور بس۔آپ رسول کریم ﷺ سے جدا نہ تھے اور نہ ان کے مد مقابل۔اور اسی طرح یہ کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا کے دوسرے سب مقامات سے جن میں قادیان بھی شامل ہے ، افضل اور اعلیٰ ہیں اور ہم احمدی بحیثیت جماعت ان دونوں مقامات کی گہری عزت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور ان کی عزت پر اپنی عزت کو قربان کرتے ہیں اور آئندہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔اور میں خدائے واحد وقتہار کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس اعلان میں کوئی جھوٹ نہیں بول رہا۔میرا دل سے یہی ایمان ہے اور اگر میں جھوٹ سے یا اختفاء یا دھوکا سے کام لے رہا ہوں تو میں اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعا کرتا ہوں کہ:۔اے خدا! ایک جماعت کا امام ہونے کے لحاظ سے اس قسم کا دھوکا دینا نہایت خطر ناک فساد پیدا کر سکتا ہے۔پس اگر میں نے اوپر کا اعلان کرنے میں جھوٹ، دھو کے یا چالبازی سے کام لیا ہے تو مجھ پر اور میرے بیوی بچوں پر لعنت کر۔لیکن اگر