انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 27

انوار العلوم جلد ۱۴ بلس احرار کا مباہلہ کے متعلق ناپسندیدہ رویہ تک نہیں دیا گیا ، خیال کیا گیا کہ مجلس احرار کے دل میں کچھ اور بات ہے جس کی وجہ سے نہ تو وہ شرائط طے کرنے پر تیار ہے اور نہ اپنی تحریر با قاعدہ جماعت احمدیہ کو دینے کو تیار ہے۔حالانکہ جماعت احمدیہ کی طرف سے متعدد تحریرات اس کے ممبروں کو جا چکی ہیں۔لیکن پھر بھی مُحبت پوری کرنے کے لئے میں نے مناسب سمجھا کہ ان سے دوبارہ پوچھ لیا جائے کہ شرائط کے بارہ میں آپ نے کچھ نہیں لکھا۔اور اس دفعہ اس خیال سے کہ شاید دوسرے نمائندوں سے گفتگو کرنے میں مجلس احرار کے سیکرٹری صاحب اپنی ہتک خیال کرتے ہوں مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کی تار کا جواب ناظر دعوت و تبلیغ سے دلوایا گیا جو صد را انجمن احمدیہ کے سیکرٹری اور اس کے تبلیغی شعبہ کے ذمہ وار افسر ہیں۔خیال تھا کہ اب اس خط کے بعد احرار کو کوئی اعتراض باقی نہ رہا ہو گا لیکن تعجب ہے کہ آج ۳۰۔اکتوبر ۱۹۳۵ ء ہو چکی ہے لیکن اب تک کوئی جواب مجلس احرار کی طرف سے موصول نہیں ہوا۔ہاں ایک اعلان چند روز سے مجاہد اخبار میں شائع ہو رہا ہے کہ ہمیں سب شرطیں منظور ہیں اور ہم مباہلہ ضرور کریں گے۔برادران! اگر فی الواقع مجلس احرار کو یہ سب شرطیں منظور ہیں تو جواب تحریری کیوں نہیں دیا جاتا کیونکہ اخباری جواب تو ذمہ واری کا جواب نہیں کہلا سکتا۔ابتدائی چیلنج چونکہ با قاعدہ کارروائی نہیں ہوتا اخبار میں شائع ہو سکتا ہے لیکن شرائط کا تصفیہ تو بہر حال تحریر میں آنا ضروری ہے اور دونوں فریق کے اس پر دستخط ہونے بھی ضروری ہیں۔علاوہ ازیں اس اعلان میں اور بھی نقص ہیں۔اول نقص یہ ہے کہ اس میں صرف یہ لکھا جا رہا ہے کہ ہمیں سب شرائط منظور ہیں۔حالانکہ جو امور میری طرف سے پیش ہوئے ہیں ان میں کئی امور پر اس مجمل جواب سے روشنی پڑ ہی نہیں سکتی۔مثلاً :۔(۱) میں نے لکھا تھا کہ مباہلہ میں پانچ سو یا ہزار آدمی احرار کی طرف سے علاوہ ان کے پانچ لیڈروں کے ایسے شامل ہوں جو خواہ کسی حیثیت یا اخلاق کے ہوں لیکن احرار کے نمائندے ہوں اور انہوں نے بانی سلسلہ احمدیہ کی ایک دو کتب ضرور پڑھی ہوں تا کہ وہ اس قسم کے کھانے میں حق بجانب ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ رسول کریم کے درجہ کو اپنے درجہ سے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درجہ کو قادیان کے درجہ سے گرایا ہے۔اول تو اس قسم کے مباہلہ کے لئے ضروری تھا کہ میں مطالبہ کرتا کہ ایسے لوگوں نے کم سے کم