انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 548

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر وہ اس قدر ان کی تائید کر رہے تھے یا پھر ممکن ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت عثمان کے قتل کی انہیں یہ سزامل رہی ہو۔بہر حال جب معاملہ طول پکڑ گیا اور وہ اپنے اس ارادہ سے باز نہ آئے تو حضرت معاویہ کے لشکر کی طرف ایک آدمی بھیجا گیا کہ وہ جا کر پوچھ آئے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔جب اس نے پوچھا تو وہ کہنے لگے بس ہم یہ چاہتے ہیں کہ کمیشن بیٹھ جائے اور وہ جو فیصلہ کر دے اسے منظور کر لیا جائے۔گویا فیصلہ تحکیم پر ہو ا یعنی دونوں طرف کے حکم جو فیصلہ کریں وہ منظور ہو۔حضرت علیؓ نے اس سے بہت روکا اور فرمایا یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کمیشن بٹھانے کا کیا طلب ہے؟ وہ کہنے لگے کمیشن آخر قرآن کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا قرآن کے خلاف فیصلہ تو نہیں کر سکتا۔حضرت علیؓ نے کہا اے نالائقو ! میں نے رسول کریم ﷺ سے قرآن سُنا ہوا ہے اور میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں۔میری یہ بات مان لو کہ ایسے معاملات میں کمیشن نہ بٹھایا جائے لیکن خوارج باز نہ آئے اور انہوں نے کہا بہتر تجویز یہی ہے کہ کمیشن بیٹھے۔آخر اہل شام نے عمر و بن العاص کو حکم مقرر کیا اور جب حضرت علیؓ نے ان کو فیوں سے پوچھا کہ ہماری طرف سے کون حکم ہوگا تو انہوں نے کہا ہماری طرف سے ابو موسیٰ اشعری ہوں گے۔حضرت علی نے کہا تم نے ایک بات میں میری نافرمانی کی ہے اب دوسری میں نہ کرو اور میری اس نصیحت کو مان لو کہ ابوموسیٰ اشعری کو حکم مقرر نہ کرو۔وہ کہنے لگے تو پھر اور کس کو مقرر کریں؟ حضرت علی نے کہا عبد اللہ بن عباس کو مقرر کر لو۔وہ کہنے لگے خُوب ابن عباس چونکہ تمہارا رشتہ دار ہے اس لئے تم چاہتے ہو کہ وہ حکم بنے تا وہ تمہاری تائید میں فیصلہ کرے حضرت علیؓ نے کہا اچھا عبداللہ بن عباس اگر میرا رشتہ دار ہے تو اشتر تو رشتہ دار نہیں اسے مقرر کر لو۔انہوں نے کہا واہ! اشتر نے ہی تو سارا فساد کیا ہے اسے حکم کس طرح مقرر کریں۔حضرت علیؓ نے کہا پھر جس طرح مرضی ہو کر و اور ابو موسیٰ اشعری تو اتنا سادہ آدمی ہے کہ وہ جاتے ہی پھنس جائے گا۔مجھے اس واقعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کو فیوں اور شامیوں کے درمیان ضرور کوئی سازش تھی اور رشوت چلی ہوئی تھی ورنہ جب تک سازش نہ ہو اس قدر اصرار نہیں کیا جا سکتا۔یہ اصرار کرنا ہی بتا تا ہے کہ پہلے سے آپس میں انہوں نے یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ ابو موسیٰ اشعری کو حکم مقرر کرائیں گے وہ چونکہ زیادہ سمجھدار نہیں اس لئے جس طرح چاہیں گے ان سے منوا لیں گے آخر حضرت علی اور حضرت معاویہ کے لشکر کے درمیان ایک معاہدہ لکھا گیا جس کے الفاظ یہ تھے کہ :۔هذَا مَا تَقَاضى عَلَيْهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ - قَاضَى