انوارالعلوم (جلد 14) — Page 547
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر کے پاس پہنچا اور حضرت علیؓ نے بتایا کہ الاشتر نے یہ جواب بھجوایا ہے تو وہ حضرت علیؓ سے کہنے لگے ہم تمہاری چالاکیوں کو جانتے ہیں تم نے جو پیغا مبر بھیجا تھا اسے یہ سمجھا کر بھیجا تھا کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے اشتر کی طرف سے جواب آ کر دے دینا۔حضرت علیؓ نے کہا میں تو تمہارے فائدہ کیلئے کہہ رہا ہوں۔اشتر لڑ رہا ہے اور تھوڑی دیر میں ہی خدا تعالیٰ تمہیں فتح دے دے گا۔تم اسے میدانِ جنگ سے نہ بلاؤ۔وہ کہنے لگے بلوانا ہے تو فوراً بلوا ؤ ورنہ ہم ابھی تمہیں قتل کر دیں گے۔حضرت علیؓ نے آخر پیغامبر کو کہا تم پھر جاؤ اور الا شتر کو سارا حال سنا دو۔اشتر نے کہا تم یہ تو سوچو میں کتنا بڑھ رہا ہوں ( الا شتر کوئی اچھے اخلاق کا آدمی نہ تھا۔حضرت عثمان کے خلاف جو فتنہ اُٹھا یہ اُس میں شامل تھا مگر بعد میں معلوم ہوتا ہے اس نے تو بہ کر لی پر یہ لڑائی کے وقت بڑا جوش پیدا کر دیا کرتا تھا اور اس کا طریق یہ تھا کہ یہ نیزہ لیکر دشمن کے لشکر میں کھس جاتا اور اپنے سپاہیوں سے کہتا اگر مجھے بچانا ہے تو بچا لو چنانچہ وہ دشمن پر ٹوٹ پڑتے اور اسے پسپا کر دیتے۔پھر وہ نیز لیکر اور آگے بڑھ جاتا اور دشمن کے لشکر میں کھس جاتا اور پھر اپنے سپاہیوں سے کہتا اگر مجھے بچانا ہے تو بچا لو اور سپاہی پھر ٹوٹ پڑتے۔اس طرح وہ قلب لشکر میں گھستا چلا جاتا۔حضرت علی کو اس پر اتنا اعتماد تھا کہ آپ فرمایا کرتے تھے اگر میرے پاس دو اشتر ہوتے تو مجھے یہ تکلیفیں نہ پہنچتیں) پھر اشتر کہنے لگا فتح ہونے میں چند منٹوں کی دیر ہے ابھی میں ان لوگوں کو قتل کر دیتا ہوں یا قید کر کے تمہارے پاس لاتا ہوں تم مجھے چند منٹ کی مہلت دے دو مگر اس جواب پر وہ پھر برافروختہ ہو گئے اور انہوں نے کہا بس یا تو اشتر کو بلوا ؤ نہیں تو ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔حضرت علیؓ نے پھر انشتر کی طرف پیغامبر بھیجا اور کہا کہ تمہارے سامنے اب دو باتیں ہیں یا تو دشمن پر فتح حاصل کرو اور یا اگر چاہتے ہو تو علی کا سر معاویہ کے خیمہ میں پہنچا دو۔اشتر نے جب یہ سنا تو کہنے لگا کہ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور میدانِ جنگ سے واپس آ گیا اور اُس نے ان لوگوں کو سخت ڈانٹا اور کہا تم مجھے دس منٹ کی مہلت دے دو میں ابھی اس مصیبت کا خاتمہ کر دیتا ہوں مگر وہ کہنے لگے ہم ان باتوں کو نہیں جانتے انہوں نے نیزوں پر قرآن اُٹھایا ہوا ہے اور اب ہمارے لئے سوائے اس کے کوئی صورت نہیں کہ ہم قرآن سے اپنے اس جھگڑے کا فیصلہ کریں۔وہ کہنے لگا نالائقو ! تم سے بہتر لوگ حضرت علیؓ کی طرفداری کرتے ہوئے اس جنگ میں مارے گئے ہیں کیا وہ خلاف قرآن طریق پر چل کر مارے گئے ہیں اور کیا وہ جہنمی ہیں؟ وہ کہنے لگے ہم کچھ نہیں جانتے۔جب انہوں نے قرآن اُٹھا لیا تو اور کیا رہا۔معلوم ہوتا ہے انہوں نے رشوتیں کھائی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے