انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 541

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کر لیتا ہے۔سو اُس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضی ہوں اور ایسی صورت واقعہ ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے یعنی وہ گر وہ میری خلافت کے امرکو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے۔تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ اللہ میرے پاس ہیں اور شفقت اور تَوَدُّد سے مجھے فرماتے ہیں کہ يَا عَلِيُّ دَعْهُمُ وَانْصَارَهُمْ وَذِرَاعَتَهُمْ یعنی اے علی ! ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے۔اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کیلئے آنحضرت ﷺ مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کیلئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو ہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے۔اور کھیتی سے مراد مولویوں کے پیروؤں کی وہ جماعت ہے جو ان کی تعلیموں سے اثر پذیر ہے جس کی وہ ایک مدت سے آبپاشی کرتے چلے آئے ہیں۔پھر بعد اس کے میری طبیعت الہام کی طرف منحدر ہوئی اور الہام کے رو سے خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے ذَرُونِی اَقْتُلُ مُوسى یعنی مجھ کو چھوڑ و تا میں موسی کو یعنی اس عاجز کو قتل کر دوں۔۵۴ اس رویا میں ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آپ کو علی کے مقام پر دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ خوارج کا ایک گروہ آپ کی خلافت میں مزاحم ہو رہا ہے۔گویا بتایا گیا ہے کہ خوارج کا ایک گروہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت کا مخالف ہوگا اور خوارج وہی لوگ ہیں جن میں سے بعض نے پہلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے خلافت چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے ایسا ہی مطالبہ کیا۔فرق صرف یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وہ بطور جماعت ظاہر نہیں ہوئے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وہ بطور جماعت ظاہر ہو گئے اور الگ ہو گئے۔خوارج کا خیال یہ ہے کہ خلافت کوئی مقام اور درجہ نہیں بلکہ الْحُكُمُ لِلَّهِ وَالْأمْرُ شُوری بَيْنَهُمْ حُکم اللہ کا ہے اور مسلمان آپس کے مشورہ سے جو کچھ چاہیں کریں۔گویا ان کے نزدیک خلافت جماعت کو حاصل ہے نہ کہ فرد کو۔وہ کہتے ہیں بیعت تو ہو سکتی ہے مگر وہ نظامی بیعت ہوگی، خلافت والی بیعت نہیں کہ اگر کوئی شخص ایک دفعہ خلیفہ ہو تو پھر وہ معزول ہی نہ ہو سکے بلکہ جب چاہیں گے اُس کو ہٹا دیں گے۔یہ