انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 504

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر ان کا منی آرڈر آیا جس کے کو پن پر لکھا تھا کہ حضور کی دعا کی برکت سے کورٹ سب انسپکٹر کے عہدہ کی بجائے میرا عہدہ اب کورٹ انسپکٹر کا ہو گیا ہے اور تنخواہ میں بھی ۸۰ روپے کا اضافہ ہو گیا ہے لیکن چونکہ مجھے یہ ترقی اُسی وقت ملی ہے جب حضور کی طرف سے چندہ کی تحریک ہوئی ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ترقی محض حضور کی دعاؤں کا نتیجہ ہے اور میں اس کے شکریہ میں ۲۵ روپے ماہوار جو چندہ پہلے بھیجا کرتا تھا وہ تو بھیجتا ہی رہوں گا مگر اب جو ۸۰ روپے ترقی ہوئی ہے یہ بھی بالالتزام حضور کی خدمت میں ارسال کرتا رہوں گا کیونکہ یہ ترقی حضور کے مقاصد کی تکمیل کیلئے ہی ہوئی ہے۔چنانچہ اس کے بعد وہ علاوہ پچیس روپوں کے ۸۰ روپے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماہوار بھیجتے رہے۔اسی طرح ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جب گورداسپور میں مقدمہ دائر ہوا تو اُس وقت آپ نے مختلف دوستوں کی طرف خطوط لکھے کہ اب خدمت کا وقت ہے جو دوست روپیہ بھیج کر مالی خدمت میں حصہ لینا چاہیں اُن کے لئے خدا نے یہ موقع پیدا کر دیا ہے اور وہ دوست جن کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خطوط لکھے اُن میں سے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم بھی تھے۔بعض دوست جو اُس وقت اُن کے پاس موجود تھے انہوں نے بتایا کہ جس روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ خط انہیں ملا وہ تنخواہ ملنے کا دن تھا چنانچہ وہ تنخواہ لے کر آئے تو ساری کی ساری تنخواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بھیج دی۔وہ کہتے ہیں ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ساری تنخواہ بھیج دی ہے آپ خود کس طرح گزارہ کریں گے؟ تو وہ کہنے لگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چٹھی آئے اور ہم اپنی ضروریات مقدم کر لیں یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔اب خواہ ہم مریں یا جئیں میں نے تو جو کچھ کرنا تھا کر دیا۔پھر اس کے بعد چھ مہینے تک بالالتزام انہیں جو کچھ ملتا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں بھیج دیتے یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں ایک اور دیکھی لکھی کہ آپ نے اس چندہ کی وجہ سے اتنی خدمت کی ہے کہ مجھے اب آپ کو روکنا پڑا ہے آپ آئندہ بے شک چندہ نہ بھیجا کریں۔آپ نے خدمت کی انتہاء کر دی ہے۔تو بعض لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اُس وقت چندہ پیسہ تھا یا دو پیسے تھا حالانکہ سوال یہ نہیں کہ چندہ کتنا تھا بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ دیتے کتنا تھے۔اگر چندہ پیسہ فی روپیہ تھا اور وہ آٹھ آنے دیتے تھے تو کیا اس سے یہ سمجھ لیا جائے گا کہ اُن پر بوجھ کم تھا ؟ پس جماعت کے دوستوں کو میں توجہ دلاتا ہوں اور گو پہلے بھی کئی دفعہ توجہ