انوارالعلوم (جلد 14) — Page 471
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض پس مومن کا فرض ہے کہ ہر گھر میں اُس کے دروازہ سے داخل ہو۔یعنی ہر نیک کام کیلئے خدا تعالیٰ نے جو طریق تجویز کیا ہے اُس طریق سے اس کام کو کرے اور جو شخص اس طریق سے کام نہ کرے وہ نیک نہیں کہلا سکتا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ جولوگ اشتعال دلانے والے ہیں اور مذہب کے بارہ میں ہنسی اور مذاق کرتے ہیں ان کے ساتھ معاملہ کرنے کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا ہدایت دی ہے۔وہ ہدایت اظہارِ غضب کی عمارت اور اظہار غیرت کی عمارت کیلئے دروازہ سمجھی جائے گی اور اس کے سوا کسی اور دروازہ سے داخل ہونا نا جائز ہوگا۔سو ہم قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ اس بارہ میں تین منفی ہدایات ہیں۔یعنی ایسی ہدایات جن میں اشتعال دلانے والے لوگوں کی اشتعال انگیزی سے محفوظ رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔اول تو سورہ نساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ اَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَ يُسْتَهْزَءُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ ۵ یعنی قرآن میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نازل کیا گیا ہے کہ جب مومن کسی مجلس میں دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا معاندانہ طور پر انکار کیا جا رہا ہے اور اس سے ہنسی کی جا رہی ہے تو اُس وقت ایسے لوگوں کی مجلس میں مومن نہ بیٹھے اور وہاں سے اُٹھ کر چلا جائے اور اس مجلس سے اُس وقت تک اجتناب کرے کہ معاند لوگ اس ذکر کو چھوڑ کر کسی اور بات میں جو اس قسم کی اشتعال انگیز نہ ہو مشغول ہو جائیں۔اگر کوئی مومن اس پر عمل نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بھی ہنسی کرنے والوں میں سمجھا جائے گا۔یہ حکم اُن لوگوں کے متعلق ہے جو کبھی کبھار غلطی کرتے ہیں، عام طور پر ہنسی اور مخول کے عادی نہیں ہوتے۔دوسرا حکم قرآن کریم نے اُن لوگوں کے متعلق دیا ہے جو ہنسی اور مذاق کو اپنی عادت بنا لیتے ہیں اُن کے بارہ میں فرماتا ہے۔وَلا تَرُكُنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ یعنی جولوگ دین کے معاملہ میں ظلم کے عادی ہیں ، اُن کی مجلسوں سے گلی اجتناب کرو، اگر تم ایسا نہ کرو گے تو تم آگ میں پڑ جاؤ گے۔آگ میں پڑ جاؤ گے“ کے یہی معنی ہیں کہ اگر بے غیرتی دکھاؤ گے تو بھی خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آ جاؤ گے اور اگر جوش میں آ کر کوئی خلاف شریعت بات کر بیٹھو گے تب بھی عذاب میں مبتلاء ہو گے۔پس جب کہ ایسی مجالس اور ایسے لوگوں کا قرب تمہارے لئے ہلاکت کا موجب ہیں تو ان سے اجتناب کرنا ہی تمہارے لئے اچھا ہے۔ان دونوں ہدایتوں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب دشمن اشتعال دلائے تو مومن کو