انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 472

انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض چاہئے کہ اس کے پاس جانے سے اجتناب کرے اور اس سے دُور بھاگے تا کہ اس کا نفس جوش میں آکر اس سے کوئی ناجائز حرکت نہ کروا دے یا اس کا دل غیرت کا جذبہ کھو کر خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر نہ بھڑ کالے۔تیسری ہدایت قرآن کریم اس حالت کے متعلق دیتا ذکر الہی اور دعا میں لگ جاؤ ہے کہ جب انسان باوجود کوشش کے ایسے مواقع سے نہیں بچ سکتا اور وہ یہ ہے إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَئِفٌ مِّنَ الشَّيْطَنِ تَذَكَّرُوا فَإِذَاهُم مُّبْصِرُونَ کے یعنی متقیوں کو جب مخالفوں کے اشتعال دلانے سے اشتعال آجائے تو وہ فوراً ذکر الہی شروع کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگ جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فوراً ان کا غصہ حد کے اندر آ جاتا ہے اور وہ عقل کے مارے جانے والی کیفیت جو انسان سے جرائم کا ارتکاب کرا دیتی ہے دُور ہو جاتی ہے اور وہ پھر دانائی اور تدبر کے مقام پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔غرض اشتعال کے مواقع کیلئے قرآن کریم نے ہمیں تفصیلی ہدایات دی ہیں اور وہ اظہار غیرت اور اظہارِ غضب کے خُلق کے لئے بمنزلہ دروازہ کے ہیں انہی دروازوں میں سے گزر کر انسان غضب اور غیرت کی عمارت میں داخل ہو سکتا ہے ان کو چھوڑ کر کسی اور دروازہ سے داخل ہونا مومن کیلئے جائز نہیں ہے۔تیسری بات جو خدا تعالی کی خوشنودی اور انسانی کامیابی کی راہ تیری مذکورہ بالا آیات سے مستنبط ہوتی ہے یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اوپر کے بتائے ہوئے راستہ میں ہے بلکہ خود انسان کی کامیابی بھی اسی راہ پر چلنے میں ہے۔چنانچہ فرماتا ہے لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ یعنی یہ حکم ہم نے یونہی نہیں دیئے ، تمہاری ترقی اور کامیابی بھی اسی طریق سے وابستہ ہے۔کامیابی کا اس امر کے ساتھ وابستہ ہونا ایک ظاہر امر ہے، جو راستے کسی عمارت میں داخل ہونے کے ہوں جب انسان ان راستوں سے داخل ہو تبھی وہ بغیر کسی تکلیف کے اپنے مدعا کو پاسکتا ہے۔اگر ان راستوں کو چھوڑ کر دیواریں پھاندنی شروع کرے تو اُس کی تکلیف بڑھ جائے گی اور اُس کی حماقت کی بھی لوگ الگ شکایت کرنے لگیں گے۔اس زیر بحث سوال میں کامیابی کا تعلق اس طرح ظاہر ہے کہ جب انسان جوش میں آتا ہے تو اُس کی عقل ماری جاتی