انوارالعلوم (جلد 14) — Page 435
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ سے واپس آ کر کچھ دنوں میں دوسرے کاموں میں مشغول رہا، مارچ کے تیسرے ہفتہ میں میں نے محاسب صاحب سے کہا کہ ان کو حساب کا کام بھی سکھا دیں اور ۲۵۔مارچ کو جیسا کہ دفتر محاسب نے رپورٹ کی ہے انہوں نے وہاں با قاعدہ کام کرنا شروع کیا اور ملازمت پر مقرر ہوئے ۳۱۔مارچ کو یا یکم اپریل کو شام کے وقت (جیسا کہ امور عامہ کے ریکارڈ سے میں نے تاریخیں معلوم کی ہیں اور ان کی بناء پر دوسری تاریخوں کا اندازہ کیا ہے۔) مصری صاحب نے مجھ سے میاں عبدالرحمن کے متعلق شکایت کی کہ ایک گواہ کہتا ہے ، وہ بھی چوری میں شامل ہیں۔گویا ان کے تقرر کے بعد انہوں نے اغلب ہے کہ منگل یا شاید بدھ کے روز جبکہ میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ سپر نٹنڈنٹ پولیس کو کیوں نہیں ملے ، انہوں نے مجھ سے یہ بات کی ہے۔جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں اس کا کوئی ثبوت مجھے نہیں ملا اور بعد کی پولیس کی تفتیش نے بھی اسے غلط ثابت کر دیا۔پس یہ خیال کہ ملازمت کے معاملہ میں ان سے کوئی رعایت ہوئی ہے یا کہ ان کے خلاف شکایت موصول ہونے پر انہیں انعام ملا ہے، سراسر غلط ہے اور محض اندرونی کدورت کی وجہ سے یہ خیالات ملتانی صاحب اور مصری صاحب کے دل میں پیدا ہوئے ہیں ، میں نے تو اس معاملہ میں بھی ایسی احتیاط سے کام لیا ہے کہ کم لوگ ایسی احتیاط سے کام لیتے ہو نگے۔مثلاً اوّل وہ دفتر کے بعد میرے باغ میں آنریری طور پر کام کیا کرتے تھے ، جب مصری صاحب نے مجھ سے انکی شکایت کی تو پہلا کام میں نے یہ کیا کہ باغ کا کام اور آدمی کے سپر د کر دیا اور ان سے کہہ دیا کہ اب تمہاری ضرورت نہیں مگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ پھر بھی آ کر نگرانی کرتے رہتے ہیں۔اس پر میں نے انور صاحب کو جن کے ماتحت وہ اس وقت آچکے تھے کہا کہ ایک شخص اخلاص سے مفت کام کرتا ہو اور باوجود منع کرنے کے نہ رکھتا ہو تو اسے میر اختی سے منع کرنا بد تہذیبی میں داخل ہو گا اس لئے آپ ان کو منع کر دیں کہ جو زائد وقت بھی ہو وہ دفتر میں دیا کریں دوسرا کام نہ کریں مگر وہ اس پر بھی نہ رُکے اور انہوں نے کہا کہ میں اگر اپنے وقت میں سے کچھ نواب کیلئے لگاتا ہوں تو دفتر کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے اور میرے پاس بھی کئی شکایات لکھیں لیکن میں نے انور صاحب کو تاکید کی کہ انکو ضرور ہٹا دو۔ورنہ مصری صاحب کی طبیعت میں سخت بدظنی ہے ، وہ ضرور یہ نتیجہ نکالیں گے کہ چونکہ ان کا کام کرتا ہے اس لئے اس کی رعایت کرتے ہیں۔(اس موقع پر مولوی عبد الرحمن صاحب انو رمولوی فاضل نے اُٹھ کر بیان دیا کہ حضور کے ارشاد پر میں نے اسے وہاں جانے سے روک دیا تھا اور تحریری طور پر آرڈر دیکر