انوارالعلوم (جلد 14) — Page 365
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) شروع کر دی تھی کہ ہد ہد بھی ان کے لشکر میں شامل تھا۔پھر بد بد کی کوئی فوج آپ کے پاس ہوتی تب بھی کوئی بات تھی۔بتایا یہ جاتا ہے کہ ہد ہد صرف ایک آپ کے پاس تھا اس ایک ہد ہد نے بھلا کیا کام کرنا تھا اور ایک جانو ر ساتھ لے جانے سے آپ کی غرض کیا تھی؟ (۳) تیسری بات یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے۔ہد ہد نے واپس آکر یہ یہ باتیں بیان کیں اور معجزہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام پرندوں کی بولی سمجھتے تھے حالانکہ اصولی طور پر یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کا معجزہ بیان ہونا چاہئے تھا مگر بیان ہد ہد کا معجزہ ہوتا ہے جو سلیمان کے معجزہ سے بھی بڑھ کر ہے۔پھر پرندوں کی بولی سمجھنا حضرت سلیمان سے ہی مخصوص نہیں تمام شکاری پرندوں کی آوازیں سمجھتے ہیں۔(۴) ایک اور بات یہ ہے کہ ہد ہد ان جانوروں میں سے نہیں جو تیز پرواز ہوں اور اس قدر ڈور کے سفر کرتے ہوں۔یہ جہاں پیدا ہوتا ہے وہیں مرتا ہے مگر قرآن یہ بتلاتا ہے کہ ہد ہد دمشق سے اُڑا اور ۸ سو میل اُڑتا چلا گیا۔یہاں تک کہ سبا کے ملک تک پہنچا اور پھر وہاں سے خبر بھی لے آیا۔گویا وہ ہد ہد آجکل کے ہوائی جہازوں سے بھی زیادہ تیز رفتار تھا اور معجزہ دکھلانے والا ہد ہد تھا نہ کہ حضرت سلیمان۔حالانکہ بتانا یہ مقصود تھا کہ حضرت سلیمان نے معجزہ دکھایا۔(۵) اسی ہد ہد کا دوسرا معجزہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شرک اور توحید کے باریک اسرار سے واقف تھا اور اس کو وہ وہ مسائل معلوم تھے جو آجکل کے مولویوں کو بھی معلوم نہیں۔کتنی اعلیٰ تو حید وہ بیان کرتا ہے۔کہتا ہے۔وَجَدتُهَا وَ قَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمُ لَا يَهْتَدُونَ یعنی میں نے اُس کو اور اُس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کے آگے سجدہ کرتے دیکھا اور شیطان نے اُن کے عمل اُن کو خوبصورت کر کے دکھائے ہیں اور اُن کو - سچے راستہ سے روک دیا ہے جس کی وجہ سے وہ ہدایت نہیں پاتے۔پھر اس کی غیرت دینی دیکھو۔آجکل مولویوں کے اپنے ہمسایہ میں بت پرستی ہو رہی ہو تو وہ اس کے روکنے کی کوشش نہیں کرتے مگر ہر ہر چاروں طرف دوڑا پھرتا ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو خبر لا کر دیتا ہے کہ فلاں جگہ شرک ہے فلاں جگہ بُت پرستی ہے۔