انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 366

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) (۶) پھر وہ سیاسیات سے بھی واقف تھا کیونکہ وہ کہتا ہے کہ وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ یعنی ملکہ سبا میں بادشاہت کی تمام صفات موجود ہیں اور اسے لوازم حکومت میں سے ہر چیز ملی ہوئی ہے۔گویا وہ اُس کے تمام خزانے اور محکمے چیک کر کے آیا اور اس نے رپورٹ کی کہ تمام وہ چیزیں جن کی حکومت کیلئے ضرورت ہوا کرتی ہے وہ اُس کے پاس موجود ہیں۔(۷) پھر شیطان اور اُس کی کارروائیوں سے بھی وہ خوب واقف ہے کیونکہ وہ کہتا ہے میں جانتا ہوں کہ انسان کا جب شیطان سے تعلق پیدا ہو جائے تو بُرے خیالات اُس کے دل میں پیدا ہو جاتے ہیں بلکہ ان خیالات کے نتائج سے بھی واقف تھا کیونکہ کہتا ہے کہ فَصَدَّهُمُ عَنِ السَّبِیلِ ایسے خیالات کے نتیجہ میں انسان کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستہ سے دُور جا پڑتا ہے۔یہ بد بد کیا ہوا اچھا خاصہ عالم ٹھہرا۔ایسا ہد ہد تو اگر آج مل جائے تو اسی کو مفتی بنا دینا چاہئے۔(۸) ہاں ایک بات رہ گئی اور وہ یہ کہ وہ تختِ سلطنت کی حقیقت سے بھی خوب واقف تھا کیونکہ وہ کہتا ہے کہ ملکہ سبا کے پاس ایک ایسا عظیم الشان تخت ہے جو آپ کے پاس نہیں۔گویا وہ لالچ بھی دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس پر حملہ کیجئے۔شریعت کا بوجھ انسان کے سوا کسی اور پر نہیں ڈالا گیا یہ پیاری باتیں پر بتاتی ہیں کہ یہ ہد ہد کوئی پرندہ نہیں تھا کیونکہ قرآن میں صاف لکھا ہے کہ وہ امانت جسے فرشتے بھی نہ اُٹھا سکے، جسے آسمان اور زمین کی کوئی چیز اُٹھانے کیلئے تیار نہ ہوئی اسے انسان نے اُٹھا لیا۔وہی ہے جو ہماری شریعت کے اسرار کو جانتا ہے۔فرشتہ صرف ایک ہی بات سمجھتا ہے یعنی نیکی کی بات کو۔مگر انسان بدی اور نیکی دونوں پہلوؤں کو جانتا ہے اور تمام حالات پر مکمل نگاہ رکھتا ہے۔مفسرین کہتے ہیں کہ ہد ہد کوئی جانور تھا حالانکہ حَمَلَهَا الْإِنْسَانُ والی آیت موجود ہے۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کے سوا اور کوئی مخلوق اسرار شریعت کی حامل نہیں۔پس جب کہ بد بد بھی اسرار شریعت سے واقف تھا تو لازماً وہ بھی انسان ہی تھا نہ کہ پرندہ۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا طیر کے متعلق قرآن کریم میں کوئی طیر کی مختلف اقسام اشارہ پایا جاتا ہے یا نہیں ؟ سو جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے